تذکرۃ المہدی — Page 81
تذكرة لمهدی 81 تکلیف کو جو وہ بھی کوئی باخدا کے لئے تکلیف نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ شہید فی سبیل اللہ کو اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تکلیف کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی ہوتی ہے یاد کر کے روتا رہے اور ماتم کرتا رہے تو اس جیسا دنیا میں کون بیوقوف ہو گا وہ تو ایک دشمن قرار پائے گا اور سمجھا جائے گا کہ یہ ہمیشہ کے دکھ سے راضی ہے اور سکھ نہیں چاہتا اس قدر رنج و غم دشمنی پر دلالت کرتا ہے۔ایک مکالمہ ایسا ہی ایک اور واقعہ پیش آیا وہ یہ کہ شیخ یوسف علی نعمانی مرحوم ساکن قصبہ تو شام ضلع حصار کے رہنے والے تھے اور وہ ریاست جنیند میں ملازم تھے سترہ اٹھارہ برس کی ان کی عمر تھی جب وہ مجھ سے مرید ہوئے تھے اور وہ مجھ سے نہایت گرم اور پر جوش عقیدت و ارادت رکھتے تھے۔جب میں حضرت اقدس علیہ السلام سے بیعت ہوا تو ان کو خبر ہوئی اور میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حضرت پیر و مرشد آپ نے بڑا غضب کیا۔کہ آپ نے آبائی سلسلہ اور پیری کو داغ اور دھبہ لگایا اور مرزا صاحب سے مرید ہو گئے اور اپنے اس خاندان کو جو حضرت امام اعظم اللہ سے شروع ہوا اور اب تک نسلاً بعد نسل و طناً بعد بطن بلا فصل چلا آرہا ہے اور ان میں امام غوث اور قطب اور اولیاء اور ابدال آپ کے خاندان میں ہوتے رہے کیوں چھوڑا۔سراج : چھوڑا کیا۔کیا ان اپنے بزرگوں کی بزرگی سے انکار کیا ان کی گستاخی وبے ادبی کی یا ان کی ولایت میں شک کیا یہ تو ہدایت اور تعلیم الہی ہے جہاں مل جائے انسان کو لے لینی چاہئے رسول اللہ ہی یہ فرماتے ہیں الْحِكمة ضالة الْمُؤْمِن یعنی حکمت جو ہدایت راه راست ایمان عرفان وغیرہ ہے مومن کی گم شدہ چیز ہے کیا مومن کا یہ کام ہے کہ اپنی گم ہوئی چیز کو اگر پاوے نہ لے دنیا کی چیز کو تو انسان چھوڑ تا ہی نہیں پھر ہدایت و ایمان و عرفان کی چیز مومن کیسے چھوڑ