تذکرۃ المہدی — Page 6
تذكرة المهدي سفر ریل 6 پس ہم دارالامان سے معہ اہل و عیال چل کر لدھیانہ پہنچ گئے تو برادر مکرم لدھیانہ میں ملے جب میں امرتسر سے ریل میں سوار ہوا تو اس گاڑی میں میں اور میرے ساتھ مرزا عنایت اللہ بیگ ہانسوی اور دو ہندو جن میں ایک سنار اور ایک شاید کھتری تھا اور باقی تمام سکھ صاحب تھے سنار نے آگ لگا کر چلم بھرنی چاہی اور کھتری نے آگ سلگانے میں مدد دی۔کیونکہ دونوں حقہ پینے کی عادت رکھتے تھے اور سکھوں کو حقہ سے نفرت ہے انہوں نے کہا کہ چلم نہ بھرو سنار نے نہ مانا اور آگ طیار کر کے چلم بھرلی اور سکھوں کی طرف سے تکرار کی نوبت پہنچی۔میں نے نرمی سے سکھوں کو کہا کہ تم تکرار کیوں کرتے ہو وہ بولے کہ ہم حقہ نہیں پیتے اور ان دونوں کو ہم حقہ نہ پینے دیں گے ہمارے گرو صاحب نے اس کو منع کیا ہے میں نے کہا کہ گرو صاحب نے تو شراب سے بھی منع کیا ہے۔دونوں حکم ماننے ضروری ہیں یہ خوب بات ہے کہ ایک چیز چھوڑنی اور ایک پکڑنی بلکہ بخوشی اور بے خوف استعمال کرنی اور پھر فرو صاحب نے تو زناکاری رنڈی بازی سے بھی روکا ہے حالانکہ اس فحش حرکت سے بھی تم پر ہیز نہیں کرتے بڑی اور کبیرہ گندی چیزوں سے نہ بچنا اور ایک ادنی شے کے استعمال سے جو وہ بھی دوسرا شخص اس کو کرتا ہے جو تمہارے مذہب کا نہیں ہے چڑنا اور فساد کرنا اور تکرار کرنا اسی کا نام گرد صاحب کی تابعداری فرمانبرداری ہے۔اور حقہ سے گرو صاحب نے تمکو منع کیا ہے نہ ان کو یہ لوگ تو گر و صاحب کو ہی نہیں مانتے ان کے حکم کو کیا مانیں گے اور تم لوگ خود ہی گرو صاحب کے حکم کی تعمیل نہیں کرتے اس چھوٹی سی بات پر فساد اور تکرار کرنا نا مناسب معلوم ہوتا ہے آئندہ تم کو اختیار ہے میری یہ بات سن کر دو تین بوڑھے بڑے سکھ صاحب تو خاموش ہو گئے اور شرمندہ ہو کر ان دونوں ہندؤں - سے منہ پھیر لیا اور کچھ نہ بولے اور دوسرے جو ان اور جوشیلے سکھوں کو بھی تکرار سے روک دیا۔اور کہا دیکھو میاں مسلمان نے کیسی کچی بات کہی ہے یہ حقہ