تذکرۃ المہدی — Page 73
تذكرة المهدى 73 ال اور علوم شرعیہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور خصوصاً تصوف میں ایسی معرفت رکھتے تھے کہ میں نے سینکڑوں درویش صوفی دیکھے مگر یہ معلومات اور یہ دستگاہ نہیں دیکھی۔نواب صاحب اہل اللہ کے بڑے معتقد تھے اور آنحضرت ا کے عاشق جانباز تھے ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے۔باوجود اس قدر وسیع معلومات اور تصوف میں ماہر ہونے کے حضرت اقدس علیہ السلام سے اعلیٰ درجہ کا عشق تھا اور پورا اعتقاد رکھتے تھے۔نواب صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ جو بات میں نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی میں دیکھی وہ کسی میں نہیں دیکھی۔بعد آنحضرت ﷺ کے اگر کوئی شخص ہے تو یہی ہے اس کی تحریر میں نور اور ہدایت اس کے کلام میں اس کے چہرہ میں نور ہے ایک روز میں نے نواب صاحب سے اپنا کشف بیان کیا جو آگے آئے گا تو اس کو سن کر نہایت خوش ہوئے۔اور وہ کشف لوگوں سے بیان کیا اور وہ کشف حضرت اقدس کی تصدیق میں تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام بھی کبھی کبھی نواب صاحب سے ملنے جایا کرتے تھے اور نواب صاحب کے انتقال کے وقت حضرت اقدس علیہ السلام لودھیانہ میں تشریف رکھتے تھے۔بوقت انتقال نواب صاحب نے دعا سلامتی ایمان اور نجات آخرت کے لئے ایک آدمی حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجا اور جوں جوں وقت آتا جاتا تھا آدھ گھنٹہ اور دس دس منٹ کے بعد آدمی بھیجتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بڑا خوش ہوں کہ آپ میرے آخری وقت میں لودھیانہ تشریف رکھتے ہیں اور مجھے دعا کرانے کا موقع ملا۔پھر بے ہوشی طاری ہو گئی لیکن جب ذرا بھی ہوش آتا تو کہتے کہ حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں آدمی جائے اور عاقبت بخیر اور اچھے انجام کے لئے عرض کرے اور جب حالت نزع طاری ہوئی تو یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کی نماز حضرت مرزا صاحب پڑھا ئیں تاکہ میری نجات ہو۔ادھر حضرت اقدس بھی نواب صاحب کے لئے بہت دعائیں کرتے رہے اور ہر بار آدمی سے بھی فرماتے رہے کہ ہاں ہاں تمہارے واسطے