تذکرۃ المہدی — Page 69
تذكرة المهدى 69 علیہ السلام کی وفات کا ذکر کر رہے ہیں میں صرف دو منٹ حضور اقدس کی بارگاہ معلی میں بیٹھ کر چلا آیا اور رعب سے کچھ عرض نہ کر سکا پھر میں معہ نور محمد ہانسوی اور نواب اشرف علی خان اور عبد القادر شاہ عرف پھول شاہ اور ایک دو اور شخص حضرت اقدس حبیب الله الصمد مهدی موعود مسیح معہود علیہ السلام کی خدمت والا مرتبت میں حاضر ہوا تو حضرت اقدس علیه السلام فداهای والی و جانی ومالی) نے مجھے دور سے آتے ہوئے دیکھا اور ہے اور کھڑے ہو گئے اور دو چار قدم آگے بڑھے اور مصافحہ کیا اور فرمایا۔اسباب کہاں ہے میں نے عرض کیا کہ نواب علی محمد خان صاحب مجھجری مرحوم کے مکان پر ہے فرمایا ساتھ کیوں نہ لائے میں نے عرض کیا کہ حضور علیک الصلوۃ والسلام لے آؤں گا فرمایا کب آئے میں نے عرض کیا کہ آج ہی حاضر ہوا ہوں فرمایا ٹھرو گے میں نے عرض کیا کہ آمدن بارادت و رفتن باجازت جب تک حضور کی خوشی ہوگی اور اجازت جانے کی نہیں ملے گی تب تک ٹھہروں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور ہاتھ پکڑے پکڑے بیٹھ گئے اور احباب بھی موجود تھے وہ بیٹھ گئے قاضی خواجہ علی صاحب اور شاہزادہ عبد الحمید صاحب اور بھی احباب حاضر تھے الغرض بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں اور سفر کے حالات دریافت فرماتے رہے فرمایا الحمد للہ آپ کو کوئی ابتلا نہیں آیا اور آپ اس وقت میں ثابت قدم رہے یہ محص اللہ تعالٰی کا فضل ہے کہ خدا کے بھیجے کو اس کی آواز سنتے ہی قبول کر لیا۔اور فرمایا مجھے ہمیشہ سے آپ سے محبت ہے اور میں دل سے تم کو دوست رکھتا ہوں عباس علی لدھیانوی بھی اس وقت تھا یہ شخص بڑا ہی پر غضب تھا ان دنوں یہ حضرت اقدس سے معتقد تھا لیکن میری طبیعت اس سے متنفر رہتی تھی اور جب میں ان کو دیکھتا تو خدا جانے مجھے کیوں نفرت ہو جاتی تھی میں آپ کی خدمت میں تین مہینے تک رہا اس زمانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام سخت بیمار تھے اور نماز باجماعت کا اس حالت بیماری اور ضعف میں نہایت التزام رکھتے تھے۔