تذکرۃ المہدی — Page 40
تذكرة المهدى 40 وفات ہو گئی تو صحابہ کے تین گروہ ہو گئے ایک گروہ وفات پر اور ایک حیات پر جن میں حضرت عمر ال بھی تھے جو فرماتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو میں اس کو قتل کروں گا اور ایک گروہ اس پر تھا کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔لیکن پھر زندہ ہوں گے اور منافقوں کو سزا دیں گے حضرت ابو بکر صدیق می چین تشریف لائے اور آنحضرت ا کے جنازہ پر گئے اور حضرت کے چہرہ مبارک پر بوسہ دیا اور کہا کہ تجھ کو خدا تعالی دو موتیں نہیں دکھائے گا اور یہ آیت مجمع عام میں پڑھ کر سنائی مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ محمد ال کوئی خدا نہیں تھے جو ہمیشہ زندہ رہتے ہاں ایک رسول تھے اور آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو گئے اس پر کا اتفاق ہو گیا اور حضرت عمر نے تلوار میان میں کرلی اور فیصلہ ہو گیا اگر حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہوتے تو کوئی تو بول اٹھا یہ پہلا اجماع تھا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی موت پر ہوا اس اجماع صحابہ کو مان لیجئے اگر آپ کا اجماع پر یقین ہے؟ اصحاب رسول اللہ ا سے بڑھ کر اور کوئی اجماع نہیں ہے پس اس اجماع اور جمہور صحابہ رضی اللہ عنم کو چھوڑنا اور اپنی طرف سے دوسری قسم کا اجماع بنانا ٹھیک نہیں ہے خدا کے لئے سوچو سمجھو۔اس میری تقریر کے بعد مولوی چھٹا مباحثہ ایک طالب علم سے صاحب کو سخت غصہ آگیا اور تکرار پر آمادہ ہو گئے اور کچھ جواب نہ بن پڑا پھر میں سٹیشن ریلوے پر آیا چونکہ ٹکٹ ملنے میں دیر تھی۔اور ظہر کی نماز کا وقت آگیا تھا ایک چھوٹی سی مسجد چبوترہ نماٹیشن کے قریب اور چنگی کی چوکی کے متصل بنی ہوئی ہے جس میں مسافر اور شہر سے آنیوالے نماز پڑھتے ہیں۔میں بھی نماز پڑھنے کے لئے آگیا وہاں پانچ چھ علم بیٹھے پائے وہ اختلاف مذہبی میں کچھ باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ