تذکرۃ المہدی — Page 38
تذكرة المهدى 38 اس مولوی صاحب مذکور کے منافق ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب یہ سہارنپور سے اور کسی شہر میں جہاں غیر مقلد ہوں جائیں تو بڑے پکے غیر مقلد اور مضبوط اہل حدیث بن جاتے ہیں اور نماز وغیرہ کا طریق غیر مقلدوں کی طرح رکھتے ہیں اور جب سہارنپور میں جاتے ہیں تو بڑے پختہ حنفی مقلد بنے رہتے ہیں اور نماز وغیرہ کا طریق بھی حنفیوں کا سار کھتے ہیں۔پھر تھوڑی دیر میں دس بارہ آدی لکھے پڑھے غیر احمدی کے پیچھے نماز آگئے اور ایک مولوی حکیم محمد اسحق بھی آگئے۔مجھ سے پوچھا کہ تم ہمارے ساتھ جماعت کی نماز کیوں نہیں پڑھتے میں نے کہا کہ آج کل ایک فتنہ برپا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم میں بہت فریق ہو گئے۔وہابی۔سنی۔رافضی - مقلد - غیر مقلد۔اور ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔اب معلوم نہیں کہ کون کافر ہے۔اور کون مسلمان ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو ایک مسلمان کو کافر کہتا ہے وہ کہنے والا خود کا فر ہو جاتا ہے جب ایک کو ایک کافر کہتا ہے تو مسلمان کوئی بھی نہ رہا۔لہذا ہماری نماز کافر کے پیچھے نہیں ہوتی۔اور تو یہ بات سن کر ڈر گئے اور خوف زدہ ہو کر کہنے لگے کہ یہ تو سچ ہے لیکن مولوی صاحب نے کہا کہ تم بھی تو اسی زمرہ میں ہو اور کفر سے نہیں بچے۔تم مسلمان کیسے ہوئے میں نے کہا کہ مولوی صاحب ہم ہی ایک دنیا میں مسلمان ہیں اس وجہ سے کہ ہم کسی کو اپنی طرف سے کافر نہیں کہتے یہی نشان ہمارے مسلمان ہونے کا ہے۔پھر سب نے پوچھا کہ ہم میں یعنی عام پانچواں مباحثہ وفات مسیح پر مسلمانوں میں اور تم میں کیا فرق ہے؟ میں نے کہا کہ فرق کچھ بھی نہیں اور غور سے دیکھا جائے تو بہت بڑا فرق ہے نہیں تو یہ ہے کہ ہم عام مسلمانوں کی طرح وہی عقیدہ اسلامی رکھتے ہیں خدا بھی رہی رسول بھی وہی قرآن بھی وہی نماز، روزہ، حج، زکوۃ ، کلمہ اور دیگر احکام وہی