تذکرۃ المہدی — Page 36
تذكرة المهدي 36 ایک خواب کی تعبیر: جب مولوی صاحب قادیان سے رخصت ہو کر سہارنپور کی سرزمین میں گئے تو ایک خط مجھے لکھا کہ میں نے رات ایک خواب دیکھا ہے کہ مرزا صاحب کی شکل مجنونوں اور پاگلوں کی سی ہے میں نے وہ خط حضرت اقدس علیہ السلام کو پڑھ کر سنایا حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ جو شخص راستباز نبی یا رسول امام یا ولی اللہ کو خواب میں بری صورت یا کسی عیب میں دیکھے یا بیمار تو یقیناً وہ خواب میں اپنی حالت دیکھتا ہے اور یہ حال اسی کا ہوتا ہے نہ راست باز کا کیونکہ وہ شخص ان کے جمال کے آئینہ میں اپنی اندرونی صفت کو جیسا وہ ہوتا ہے دیکھتا ہے مولوی صاحب نے خواب سچا دیکھا ہے لیکن انہوں نے اپنی حالت جنوں اور اپنی صفات اندرونی کو دیکھا ہے انبیاء اللہ اور اولیاء اللہ آئینہ ہوتے ہیں اور آئینہ میں جو شخص منہ دیکھتا ہے ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا دیکھنے والے کا ہوتا ہے گویا اس کی اندرونی صورت اس کو دکھائی جاتی ہے اور یہ ایک قسم کی اتمام حجت ہے پھر فرمایا کہ ایک بد شکل آدمی نے ایک شیشہ اٹھا کر دیکھا تو اس شیشہ کو اس نے یہ کہہ کر زمین پر پھینک دیا کہ یہ شیشہ بہت ہی برا ہے جس میں ایسی بدصورت دکھائی دیتی ہے۔اس نے اپنا قصور اور اپنی شکل نہ دیکھی بلکہ شیشہ کو برا بتلایا۔پھر فرمایا کہ یہی تعبیر مولوی صاحب کو لکھ بھیجو اور فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ ہماری شکل تو آنحضرت ا کی شکل کے مشابہ دیکھی تھی تمہارا اس پر ایمان نہ رہا تو تمہاری بد بختی سے خدا نے یہ شکل تمہاری اصلی شکل دکھلائی ! میں نے عرض کیا کہ حضرت جب وہ دار الامان میں تھے تو مولوی صاحب کو آنحضرت ا کی شکل پر دکھائی دیئے۔اور جب وہ سہارنپور کی سخت زمین میں گئے تو ان کو اس وجہ سے کہ آنحضرت ا پر ایمان نہ رہا۔ان کی اصلی اور حقیقی صورت دکھائی گئی کیونکہ آپ کا چہرہ تو آنحضرت ﷺ کا چہرہ ہے اور سہارنپور پر مجھے ایک حکایت یاد آگئی۔