تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 32 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 32

تذكرة المهدي 32 کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔(یعنی اس پر عمل نہیں کریں گے نہ ان سے ملاقات کرنا چاہیے نہ ان کی صحبت اختیار کرنا چاہئے صحابہ نے عرض کیا یا رسول الله ال ان کی شناخت اور علامت فرمائیے تاکہ ہم ان سے بچیں تو آنحضرت نے فرمایا کہ سِيمَا هُمُ التَّحْلِيقُ أَوِ التَّسْبِيدُ ان کی شناخت یہ ہے کہ ان کے سر کے بال منڈے ہوئے ہونگے داڑھی بھی اسی میں شامل ہے۔یہ حدیث در اصل حضرت اقدس امام علیہ السلام نے دارالامان میں بخاری شریف سے نکال کر دکھلائی تھی اور اس وقت بالوں کا ذکر تھا۔اور کئی بار فرمایا تھا کہ سر اور داڑھی کے بال منڈانا منافق کی علامت ہے پھر فرمایا کہ ہم کو کبھی بال منڈانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ہمارے سر پر جو بال ہیں وہی ہیں جو عقیقہ کے دن اترے آپ کے بال نہایت نرم اور نازک مونڈھوں تک رہتے تھے جیسے حدیثوں میں مسیح موعود کی علامت ٹھراتی ہے۔الغرض میری یہ بات سن کر حکیم صاحب اور مولوی صاحب مشکوۃ شریف اٹھا لائے اور کہا کہ میں اس میں سے کئی حدیثیں نکال دوں گا کہ سر کے بال منڈانا سنت ہیں میں نے کہا کہ تم ایک ہی حدیث نکالدو - مولوی صاحب نے ساری کتاب مشکوۃ سولی۔مگر ایک بھی حدیث بال منڈانے کی نہیں نکلی۔پھر ایک اور مولوی صاحب تشریف لائے اور بڑے دعوے سے کہا کہ میں نکال کر دکھلاؤں گا انہوں نے بڑی دیکھ بھال کے بعد حضرت عمر کا قول نکالا کہ حضرت عمر نے ایک میں یعنی بچہ کو دیکھا کہ کچھ بال اس کے سر کے منڈے ہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بچہ کے باپ سے فرمایا کہ یا تو اس بچہ کے بال سر کے کل اثر دارد یا تمام سر کے بال رکھو۔اس سے مولوی صاحب نے یہ استدلال کیا کہ تمام سرکا رکھنا یا تمام سر کا منڈانا سنت ہے میں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ آنحضرت ﷺ کی حدیث نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث پڑھی اور طلب کی ہے اور ہم