تذکرۃ المہدی — Page 299
تذكرة الهدى 299 بات بیان کر کے بنتے رہے ایک دفعہ ذکر میں ذکر آیا تو فرمایا کہ آج تک ہم نے کسی کو تھپڑ تک نہ مارا ہے اور نہ کوئی کہہ سکتا ہے۔ان لوگوں کا بیان ہے کہ جب مرزا غلام مرتضی صاحب سے کوئی رئیس یا حاکم ملنے کے لئے آتا تو وہ دریافت کرنا کہ مرزا صاحب آپ کے بڑے صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب سے تو ملاقات ہو جاتی ہے اور وہ ملتے جلتے رہتے ہیں لیکن سنتے ہیں کہ آپ کے اور بھی ایک صاجزادہ ہے ان سے کبھی ملاقات ہوئی اور نہ دیکھے ان کو بلواؤ تو سہی دیکھ ہی لیں جناب میرزا صاحب فرماتے کہ ہاں میرا دو سرا لڑکا غلام قادر سے چھوٹا ہے تو سہی پر وہ تو الگ ہی رہتا ہے وہ ایک دلہن ہے لڑکا نہیں لڑکی ہے شرم سے کسی سے ملاقات نہیں کرتا میں بلواتا ہوں اُن میں سے جنکا ذکر اوپر لکھ چکا ہوں جو حاضر ہو تا بلوانے کے لئے بھیجتے ہیں آپ نظر بر پشت پا دوختہ والد کے پاس ذرا فاصلہ سے آکر آنکھیں نیچی کر کے بیٹھ جاتے اور یہ عادت تھی کہ بایاں ہاتھ اکثر منہ پر رکھ لیا کرتے تھے اور کچھ نہ بولتے اور نہ کسی کی طرف دیکھتے مرزا غلام مرتضی صاحب فرماتے کہ آپ نے اس دلہن کو دیکھ لیا۔خاکسار ایک لمبے عرصہ تک حضرت اقدس علیہ السلام کی صحبت میں رہا اور خلوت و جلوت میں آپکے پاس رہنے کا بالالتزام اتفاق رہا یہی آپکی عادت شریف دیکھی کہ بایاں ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر رکھ کر بیٹھتے کبھی آنکھ ملا کر کسی سے بات نہ کرتے اگر ہمارا منہ کسی اور طرف یا نیچے اوپر ہو تا تو آپ ہماری طرف دیکھتے اور جب ہم آپکی طرف دیکھتے تو فورا آنکھ نیچی کر لیتے آپ میں ایسی شرم تھی جیسے کنواری لڑکیوں میں ہوتی ہے کسی کی بات کاٹ کر بات نہ کرتے تھے۔وہ معمر ہندو جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے ایک روز قادیان میں آیا ہم بہت سے آدمی گول کمرہ میں کھانا کھا رہے تھے محمد اسمعیل سر سادی کھانا کھلاتے تھے ہم سے اس نے کہا کہ مرزا جی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہاں ہیں ہم نے کہا وہ اندر ہیں اس نے کہا بلادو - اسمعیل نے کہ ہم اب غیر وقت نہیں بلا سکتے آپ