تذکرۃ المہدی — Page 298
تذكرة المهدي 298 ڈاکٹر میر اسمعیل صاحب صاحبزادہ حضرت مخدومنا میر ناصر نواب صاحب اور عزیز مذکور میاں اسمعیل سرساوی دونوں مل کر اکثر حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں جاتے آپ دیکھ کر فرماتے اسمعیلین پھر یہ دونوں آپ کے پائے مبارک دبانے بیٹھ جاتے۔میاں جان محمد صاحب مرحوم اور گلاب نجار یہ پرانے اور حضرت اقدس ) علیہ السلام کے ہم عمر یا غالبا کچھ بڑے تھے وہ بیان کیا کرتے تھے اب وہ فوت ہو گئے اور ایک ضعیف العمر ہندو جاٹ جو حضرت اقدس علیہ السلام سے ہیں برس بڑا تھا اور قادیان سے دو کوس کے فاصلہ پر ایک گاؤں کا رہنے والا تھا جو وہ بھی مدت ہوئے فوت ہو گیا میں نے اس کو بہت ضعیف اور سفید ریش دیکھا ہے وہ اپنے گاؤں کا نمبردار بھی تھا یہ تینوں حضرت میرزا غلام مرتضی صاحب اور میرزا غلام قادر صاحب مرحومین کی خدمت میں بچپن سے بہت رہے ہیں تاوقتیکہ ان دونوں صاحبان نے وفات پائی سوائے ان کے اور لوگوں سے اور بڑھیا عورتوں سے میں نے یوں سنا ہے اور مجھے سننے اور آپکے حالات دریافت کرنے کا شوق بھی تھا۔ان سب کا متفق الفظ یہ بیان ہے کہ مرزا غلام احمد" اپنے بچپن کے زمانہ سے اب تک جو چالیس سے زیادہ ہو گئے نیک بخت اور صالح تھے اکثر گوشہ نشین رہتے تھے سوائے یا دالی اور کتب بینی کے آپ کو کسی سے کوئی کام نہ تھا کھانا بھیج دیا تو کھا لیا کپڑا بنا کے دیدیا تو پہن لیا اور اپنے والدین کے دنیاوی معاملات و امور میں فرماں بردار اور انکے ادب اور احترام میں فرد گزاشت نہیں کرتے تھے بچپن میں جو کبھی بچوں میں کھیلتے تو کوئی شرارت یا جھوٹ یا فریب نہ کرتے نہ مار پیٹ اور شور کرتے ہاں کئی بار ایسا ہوا کہ کسی لڑکے کی بھوک محسوس کرتے تو والدہ سے روٹی لا کر دے دیتے خود حضرت اقدس نے ایک بار اپنی زبان مبارک سے یہ فرمایا۔۔۔ایک لڑکا بھوک سے مضطرب تھا اور روٹی کا وقت بھی گذر چکا تھا۔والدہ صاحبہ گھر نہیں تھیں۔ہم نے چپکے سے میر بھر کے قریب دانے (غلہ) نکال کر اس کو دے دیئے تا کہ وہ بھنا کر اپنا پیٹ بھر لے۔پھر آپ