تذکرۃ المہدی — Page 297
تذكرة المهدي 297 حضرت اقدس علیہ السلام جب بعد نماز مغرب حسب معمول مسجد مبارک کے اوپر کے حصہ کی شہ نشین پر رونق افروز ہوئے تو میاں اسمعیل اپنی عادت کے موافق آپ کے پیچھے بیٹھ کر مونڈھے بازو گردن دبانے شروع کئے اور عرض کیا کہ حضرت آپ کو میرے یہاں آپ کے پیچھے بیٹھنے اور دبانے سے تکلیف ہوتی ہے اگر تکلیف ہوتی ہے تو نہ بیٹھا کروں۔فرمایا کیوں نہیں بیٹھا کرو ہمیں تکلیف نہیں ہوتی پھر عرض کیا کہ حضرت بعض دوستوں کو خیال ہے کہ حضور کو تکلیف ہوتی ہے فرمایا کہ انکو خیال تکلیف کا ہوتا ہے ہمیں تکلیف نہیں ہوتی ہمیں تمہارے اخلاص اور عقیدت سے دبانے سے آرام پہنچتا ہے۔عزیز مذکور کو یہ خیال ہوا کہ نماز میں حضرت اقدس علیہ السلام کے پاس جماعت میں کھڑا ہوں اور بالالتزام ایسا ہی کیا کہ حضرت اقدس کے پاس ہی کھڑا ہو تا ایک دن بعد نماز دوران گفتگو میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ بعض دوستوں کے حالات ہمیں کشف سے اللہ تعالٰی معلوم کرا دیتا ہے اس روز سے میاں اسمعیل آپ سے علیحدہ کھڑے ہونے لگے کہ خدا جانے بشری کمزوری سے کیا کیا حالات اور خیالات پیدا ہو جائیں اور حضرت صاحب کو معلوم ہو جائے تو خواہ مخواه شرمندگی ہو یہ اس عزیز کا نرا خیال تھا یہ لوگ بڑے پردہ پوش ہوتے ہیں اور ان کو تو اپنے آپ کی بھی خبر نہیں رہتی بلکہ کسی کیلئے خطرہ معلوم کرنے پر اس کے لئے دعا ئیں اور توجہ کرتے ہیں پاس کھڑے ہونے سے بیٹھنے سے بڑے ہی فوائد ہیں اور میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں۔حضرت اقدس کی صحبت اور پاس بیٹھنے ساتھ چلنے پاس کھڑے ہونے سے بڑے فوائد پہنچے اور خطرات دفع ہوئے جنکو میں لکھوں گا اور کچھ اول حصہ اور کچھ اس میں لکھ چکا ہوں۔ای عزیز مذکور نے ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام سے پوچھا کہ حضور امام کے پیچھے نماز میں الحمد کے بعد اگر کوئی سورۃ یا آیت پڑھ لیا کریں تو کچھ حرج تو نہیں فرمایا کوئی حرج نہیں۔