تذکرۃ المہدی — Page 296
تذكرة المهدى 296 تاکہ بچے خدا کو پیش کیا جائے سو ہم جس خدا کو منواتے ہیں آجکل لوگ اس خدا کو نہیں ماننا چاہتے ہیں۔میں نے عرض کیا حضرت ہندوؤں نے تو کروڑوں خدا بنالئے اور آریوں نے توحید کا بظا ہر دم مار کر خدا نکما ثابت کر کے ذرہ ذرہ کو خدا بنالیا۔اور مسلمانوں میں جو مقلد ہیں انہوں نے بھی بزرگوں کو خدا بنالیا اور جو اہل حدیث یا موحد کہلاتے ہیں انہوں نے بجائے تثلیث کے تربیع بنالی یعنی چار خدا ایک تو خدا دوسرا خدا و جال تیرا خدا صحیح چو تھا خدا شیطان۔اس تربیع میں مقلد غیر مقلد یکساں ہم عقیدہ ہیں۔مولوی غوث علی صاحب پانی پتی اور ان کے مرید شیطان کو سلطان الموحدین کہتے تھے اور کفر و اسلام میں کوئی فرق ہی نہیں رکھتے۔میں نے ان کو دیکھا ہے انہوں نے جو گیوں سنیاسیوں سے تعلیم پائی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نفرت سے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال سچ یہ ہے کہ ان کے دل مسخ ہو گئے اور ان کی روح مرگئی یہ اسلام کو سمجھتے ہی نہیں ان کو اسلام کی تعلیم کی کچھ خبر ہی نہیں۔یہ باتیں سن کر اسمعیل کی آنکھیں کھل گئی اور یکدم اس میں تبدیلی ہو گئی میں جو سینہ پر ہاتھ باندھتا تھا ایک دن مجھ سے پوچھا کہ حضرت صاحب یعنی مسیح موعود علیہ السلام کہاں ہاتھ باندھتے تھے میں نے کہا سینہ پر پس اسی روز سے میاں اسمعیل نے بھی سینہ پر بلا خوف ہاتھ باندھنے شروع کئے دل چلا اور ذہین تو تھا ہی حضرت اقدس علیہ السلام کی باتیں اور کلمات طیبات شوق سے سننا شروع کر دیا اور تبلیغ بھی شروع کر دی جو ملتا اس کو تبلیغ کرنی اپنے اوپر لازم کرلی لوگ کچھ مخالفت کرتے اور کچھ ہنتے۔پھر میرے ساتھ قادیان آپہنچا اور اکثر آپ کے پس پشت بیٹھ کر مونڈھے اور گردن اور بازو دبایا کرتا تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے ایک روز کہا کہ ایسا مت کیا کرو حضرت صاحب کو تکلیف پہنچتی ہے۔آپ شفقت و مہربانی سے منع نہیں کرتے ہوں گے مولوی صاحب موصوف نے از خود منع نہیں کیا بلکہ یہ تحریک مولوی برہان الدین صاحب جعلمی مرحوم نے کی