تذکرۃ المہدی — Page 294
تذكرة المهدي 294 کوئی حرج نہیں بلکہ رخصت اور اجازت ہے۔اسی طرح لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِى دِینِ کے یہ معنی ہیں کہ تمہارے کرتوت اور اعمال کی سزا تم کو بھگتنی پڑے گی اور ہمارے اعمال کی ہم کو جزا ملے گی اور ہم فتح یاب اور کامیاب ہوں گے اور تم ناکام و نامراد ہو گے چنانچہ تمام قرآن شریف مومنوں کی فلاح و کامیابی اور کافروں اور مشرکوں کی ہزیمت اور ناکامی و نامرادی سے بھرا پڑا ہے۔سورۃ إِذَا جَاءَ نفراته اور سورۃ تبت یدا میں بھی یہی بیان کیا یہاں رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَنْوَا جا میں ولی دین کی تشریح کی اور تبت یدا میں مخالفوں کی حالت کی پیشگوئی کی کہ ہر ایک شخص جو ابو لہب کی خاصیت اور صفت رکھتا ہے وہ ابو لہب ہے اور وہ مومنوں کے مقابل نیست و نابود اور خوار و ذلیل کیا جائے گا پھر اس کے بعد قل ہو اللہ احد یعنی سورہ اخلاص رکھی اور فرمایا کہ آخری زمانہ میں ولد اللہ کہنے والے لم يلد ولم يُولدہی پکاریں گے یہ ایک پیشگوئی عظیم الشان ہے جو اس آخری زمانہ میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ حدیث ہے کہ آخری زمانہ میں طلوع الشمس من المغرب ہو گا یعنی توحید الہی کا ڈوبا ہوا سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ قرآن شریف میں ناسخ و منسوخ ہرگز جائز نہیں لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِین کو جو لوگ منسوخ بتاتے ہیں وہ سمجھتے نہیں چونکہ اس سورۃ کا نام سورۃ التفریق بھی ہے کہ یہ مومنوں اور کافروں میں فرق بتانے والی اور امتیاز پیدا کرنے والی سورہ ہے کہ اب ہم میں اور تم میں یہ کھلا اور بین امتیاز اور فرق ہے کہ جس خدا کے ہم پوجنے والے اور عابد ہیں تم اس کے نہیں اور جنگی تم عبادت کرتے ہو ہم انکی عبادت نہیں کرتے اور یہ ہمیشہ کے واسطے تفرقہ ہو گیا ہے۔ہمارے اعمال توحید اور تفرید الہی سے ہمارا جسم اور روح بھر پور ہو گیا ہے اور تم میں شرک اور غیر خدا کی عبادت رچ گئی ہے پھر کیونکر ہمارا تمہارا ریل میل اور صفائی ہو سکتی ہے ہمارا خدا ہمارا معبود