تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 293 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 293

تذكرة المهدى 293 تعالی کی شایان شان اور اسلامی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کی منشا اور مقاصد کے مطابق تھے جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور حضرت مولانا نور الدین خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے سنے تھے۔میں ان دونوں کو مختصر طور سے جہاں تک مجھے سمجھ اور میرے قلم میں طاقت ہے لکھتا ہوں تاکہ کسی اہل دل اور سعید در شید روح کو فائدہ پہنچ جائے۔پہلے میں مولانا ممدوح و مرحوم کے معنے لکھتا ہوں جو لف و نشر مرتب کے طور پر موزوں ہیں۔فرمایا اس آیت کو منسوخ بتانا خدا کی شان اور اس کی علم صفت کے منافی ہے قرآن شریف میں کوئی آیت نہ منسوخ ہے اور نہ اس کی ناسخ ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلی نے کئی سو آیتوں میں سے صرف پانچ آیتوں کو منسوخ مانا ہے ہم کہتے ہیں کہ جس دلیل سے وہ کئی سو آیتیں منسوخ نہیں مانی جاسکتیں اسی دلیل سے یہ پانچ بھی منسوخ نہیں ٹھر سکتیں۔من جملہ ان پانچ آیتوں کے ایک یہ بھی آیت ہے جو سورۂ بقرہ میں ہے وَالَّذِينَ يُتَوَفَوْنَ منكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةٌ لاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إخراج اور اس آیت کی تاریخ اس آیت کو بتایا ہے جو اس سورہ کے اس رکوع کے ساتھ ہی کے پہلے رکوع میں ہے وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةٌ أَشْهُرٍ وَعَشْراً ان دونوں آیتوں کو تاسخ و منسوخ کی یہ وجہ بتائی ہے کہ چونکہ پہلی آیت میں ایک سال کی بیوہ کے واسطے عدت ٹھہرائی تھی اس دوسری آیت سے ایک سال کو منسوخ کر کے صرف چار مہینے دس دن کی میعاد عدت کی مقرر کی اگر ایک آیت کو دوسری آیت کی تاریخ نہ مانی جائے تو تناقض لازم آتا ہے اور تناقض اور اختلاف قرآن میں جائز نہیں۔بات یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں کو ناسخ و منسوخ سے کوئی تعلق نہیں دوسری آیت میں چار مہینے دس دن عدت کے مقرر کئے ہیں اور پہلی آیت ایک سال کی رخصت دی گئی ہے کہ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ایک سال تک ٹھرنا پڑے تو