تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 292 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 292

تذكرة المحمدي 292 فرمایا کہ اس آیت میں مراد فرشتوں سے آنحضرت ا کے اصحاب ہیں جو آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے آپ کے پاک کلمات سننے کے شوق میں دوڑتے چلتے تھے اسی طرح سے میرے اصحاب فرشتے ہیں جنہوں نے مجھے صدق دل سے قبول کیا ہے اور میری باتوں کو بڑے شوق سے کان لگا کر میرے آگے دائیں بائیں دوڑ دوڑ کر سنتے ہیں ہدایت پاتے ہیں۔مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں بلکہ بہت بڑی خوشی ہے میں ان کو اس بات سے روک نہیں سکتا۔یہ خدا کا فعل ہے خدا نے ہمیں بھی فرمایا ہے وَلَا تَسَهُمْ مِنَ النَّاسِ لوگوں کی ملاقات سے ہرگز نہ تھک جانا۔محمد اسمعیل سرساوی جو ہمارا ہم وطن اور ہم محلہ ہیں اور کچھ شاگرد بھی پہلے تو مجھ سے بڑی محبت تھی جب قادیان کا ذکر سنا تو مجھ سے متنفر ہو گئے چونکہ تخم سعادت دل میں تھا اس نفرت میں دعائیں کرتے رہے کہ الہی اگر پیر صاحب راہ راست اور حق پر ہیں تو مجھے انکے رنگ میں رنگین کر اور مجھے توفیق دے کہ میں بھی یہی راہ اختیار کروں اور جو الہی تیرے نزدیک راہ راست اور حق پر نہیں تو ان کو اس سے ہٹا دے اور ہدایت کر در حقیقت یہی بچے دل سے دعا نکلی ہوئی کارگر ہو گئی اور خدا نے راہ راست دکھادی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق رفیق عطا کی۔ایک روز ایسا ہوا کہ سورہ کافرون کی آیت لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دین کے انہوں نے وہ معنے کئے جو غیر احمدی کیا کرتے ہیں جو منافقت کا رنگ پایا جاتا ہے کہ تمہارا دین تمہیں نصیب رہے اور ہمارا دین ہمیں نصیب رہے تم اپنے دین پر قائم رہو ہم اپنے دین پر رہیں اور پھر یہی نہیں بلکہ بد نصیبی اور سمجھی سے منسوخ بھی بتلاتے ہیں اور یہ ایسے معنے ہیں کہ جس سے اسلام اور قرآن اور آنحضرت لال کی تعلیم پر پانی پھر جاتا ہے تمام مقاصد درہم برہم ہو جاتے ہیں اور ناسخ و منسوخ کے مسئلہ سے معاذ اللہ خدا کی بے علمی ثابت ہوتی ہے اور اس کی صفت علم پر بد نما دھبہ لگتا ہے۔خیر میں نے وہ سنے کئے جو اللہ