تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 289 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 289

تذكرة المهدي 289 چھوڑ دیا اور ایک سال تک نہ پہنا یہ مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اب میں جو تا نہ پہنوں گا بعض احباب نے مجھ سے یہ سوال بھی کیا کہ جو تا کیوں نہیں پہنتے ننگے پاؤں کیوں رہتے ہو بعض نے کسی تکلیف کا سبب سمجھا بعض نے تنگدستی پر خیال کر کے مجھے اپنے پاس سے جو تا خرید کر دیا میں نے ان کو کچھ جواب نہ دیا اور نہ کسی سے جو تا لیا۔جب ایک سال مجھے نگے پاؤں رہتے رہتے گذر گیا تو ایک روز میں صبح کی نماز سے پہلے درود شریف پڑھ رہا تھا جو دو شخص خوبصورت جوان موٹے تازے لمبے قد کے سفید کپڑے پہنے ہوئے آئے اور میرے دونوں بازو پکڑ کر کہا اٹھو چلو تمہیں فری میسن بنا ئیں گے میں یہ سن کر ان کے ساتھ ہو لیا اور دل میں خیال کرتا تھا کہ فری میسن کا نام سنتے سنتے ایک مدت گزر گئی اور اس کی نسبت مختلف باتیں بھی سنی ہیں شنیدہ کے بود ماند دیدہ اب خود ہی دیکھ بھال لوں گا۔وہ دونوں آدمی مجھے ایک عالی شان پخته چونہ هیچ خوبصورت مکان کی طرف لے گئے ایک بہت بڑا عظیم الشان دروازہ دکھائی دیا اور اس کے اندر ایک فراخ کشادہ صحن پختہ بنا ہوا ہے مگر انہوں نے ابھی تک میرے دونوں بازو نہیں چھوڑے اور میرے دل میں انبساط سرور اور ازحد خوشی تھی میں نے بہت سے مکان بادشاہوں راجوں اور نوابوں کے دیکھے مگر یہ خوبصورتی اور عمدگی کسی میں نہیں دیکھی روشنی کا یہ عالم تھا کہ سورج کی روشنی اسکے آگے کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھی پھر با ایں ہمہ خوبی و نورانی ہونے کے آنکھوں میں خیرگی یا تاریکی یا چکا چوند نہ تھی بلکہ آنکھوں میں ٹھنڈک اور زیادتی روشنی چشم تھی اور اس فرش کے اوپر ایک اور سر بفلک اس سے بھی زیادہ خوبصورت ایک عظیم الشان دروازه مگربند اس کے اوپر بالا خانہ کی صورت مکان اور اس کے تین یا پانچ دروازے درمیانی تھے اور ان دروازوں پر نورانی سرخ سرخ چلمنیں پڑی تھیں اور اندر بہت کثرت سے روشنی تھی ان دو شخصوں نے مجھے اس دروازہ کے سامنے چلمنوں والے۔