تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 285 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 285

تذكرة المهدي جوی 285 سید جو صاحبزادہ صاحب نے بیان کیا اور بات یہ ہے کہ آنحضرت کی یہ بڑی گستاخی اور بے ادبی ہے اور نہایت ہتک ہے اور اس میں آپ کی کسر شان ہے سمجھا جاوے کہ آپ کا تمام دفتر فیضان گاؤ خورد ہو گیا۔اور آپ سب کچھ پیٹ پیٹ کر اور اپنی بغل میں دبا کر اپنی قبر میں لے گئے اور امت مرحومہ کے واسطے کچھ نہ چھوڑ گئے۔معاذ اللہ ایک مومن کیونکر گوارہ کر سکتا ہے کہ - المرسلین ناکام گئے ایک گھنٹہ تک آپ تقریر فرماتے رہے مگر افسوس کہ نشی صاحب کچھ نہ سمجھے دو روز قیام کر کے واپس چلے گئے اور کچھ بھی اثر نہ ہوا۔جناب فضل شاہ صاحب جو پرانے مخلص احمدی ہیں فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت اقدس علیہ السلام دونوں مکان میں بیٹھے تھے اور کوئی نہیں تھا اس وقت آپ نے اپنا ایک خواب سنایا کہ میں ایک زینہ پر چڑھتا ہوں مگر اس طرح سے کہ مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ میں گر نہ پڑوں اور چھال مار کر یعنی قلایخ لگا کر دوسرے پر قدم رکھتا ہوں۔جب میں اوپر چڑھا تو میری ناک سے خون آیا۔شاہ | صاحب کہتے ہیں کہ میں یہ خواب سن کر گھبرایا اور آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو آپ میری اس گھبراہٹ کو سمجھ گئے فرمایا شاہ صاحب تعبیر بہت اچھی ہے۔کہنے والا خون آیا کہے تو اچھا ہے اگر بنایا جانا کہے تو برا ہو تا ہے اس میں نقصان ہے اس لئے آنا کہنا چاہئے اب معلوم ہوتا ہے کہ آمدن روپیہ کی ہوگی اور خدا تعالٰی ہمارے ہاتھ کشادہ کر دے گا شاہ صاحب کہتے ہیں کہ ان دنوں آپ پر تنگی تھی اور آپ نے تحریک کی تھی اس پر یہ خواب دکھایا گیا۔اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بڑی تنگ دستی کا زمانہ آیا شاہ صاحب تو اس زمانہ میں آئے کہ سلسلہ چمک اٹھا تھا اور بہت لوگ داخل بیعت ہو چکے تھے مگر میں نے اس زمانہ میں سے کچھ زمانہ دیکھا ہے ایک روز آپ سیر کو تشریف لے گئے جب لوٹے تو دس بارہ برس کا ایک ہندو کالڑ کا ملا اور اس نے کہا کہ دس روپیہ دو میرا باپ مانگتا ہے بہت دن ہو گئے اور یہ کہا کہ لیکر آنا سو میں