تذکرۃ المہدی — Page 283
تذكرة المهدي 283 گئے۔اور منشی صاحب سے سب حال بیان کر دیا۔منشی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں اتنا تو سمجھ گیا ہوں کہ حضرت صاحب باخدا اور خدارسیدہ ہیں اور مسیح علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ بھی ایسا ٹیڑھا نہیں صاف اور سیدھا ہے سب انبیاء مرتے ہی آئے ہیں یہ بھی ان میں داخل ہیں۔ایک لمبی نرالی زندگی نرالی ہی بات ہے جس کا کوئی ثبوت کسی کے پاس نہیں ایک وقت اور مشکل میں ڈالنے والی بات نبوت کی ہے جو مسیح کے نام کے ساتھ لگی ہوئی اور وابستہ ہے مسیح موعود سن کر فورا طبیعت اور ذہن نبوت کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں ادھر مَا كَانَ مُحَمَّد اَبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وخَاتَمَ النَّبِيِّن قرآن شریف میں آچکا ہے تو حضرت صاحب مسیح موعود یعنی نبی کیسے ہو سکتے ہیں اور اس امت میں نبی کیونکر ہو سکتا ہے۔میں نے اس وقت ان کی سمجھ کے موافق یہ کہا کہ یہ امت خیر الامم اور درمیانی امت ہے خدا تعالی فرماتا ہے کُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ لوم امة وسطاً خدا نے فرمایا ہے اس امت مرحومہ میں نبی کا نہ ہونا تعجب ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں خود انہیں کی زندگی سے لے کر چودہ سو برس کے بعد تک یعنی حضرت مسیح سے پیچھے تک صدہا نبی رسول ہو چکے پھر یہ امت کیسے محروم رہے۔قیامت کے روز موسی۔ابراہیم - نوح علیهم السلام رب العالمین کے حضور اپنی اپنی امت کے صلحاء ابدال اقطاب امام انبیاء کو پیش کریں گے سرور کائنات سید الانبیاء ای ی ک ن ک کو پیش کریں گے اولیا صلحاء ائمه مجدد تو پہلے ہی کافر ٹھہرائے گئے اور کافر قرار پاچکے اور نبوت کا خانہ خالی تو مکفرین - مکذبین متردّدین کو باری تعالیٰ کے حضور پیش کر کے کہیں گے یہ امت مرحومه امت وسط اور خیرامم ہے ہرگز نہیں خیر امم اور مرحوم اور وسط الفاظ چاہتے ہیں کہ نبوت کے درجہ سے یہ امت خالی نہ رہے بلکہ سب سے بڑھ چڑھ کے رہے خاتم النبین کے معنے دراصل یہ ہیں کہ آنحضرت ا کو نہ مانکر اور