تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 282 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 282

تذكرة المهدى 282 نہیں لے سکتا۔یہی حال پیرو مرشد کا ہوتا ہے کہ جس قدر رحمت و فضل کا پانی مرشد کو ملتا ہے تو اسی قدر علی حسب الاخلاص مریدوں کو اس رحمت سے حصہ ملتا ہے خواہ مرشد اور مرید میں کتنا ہی مقامی و سکونت کے لحاظ سے فاصلہ ہو مگر جب تک وہ عقیدت وارادت میں مضبوط اور پختہ ہو اور چاہے مرشد کو معلوم بھی نہ ہو کہ مرید کہاں ہے اور کس جگہ ہے کیسا ہے مگر خدا خوب جانتا ہے تب بھی وہ اس فیض اور رحمت الہی سے محروم نہیں رہ سکتا ضرور ہی اپنا حصہ لے لیتا ہے اور جو اپنی بد بختی و بد نصیبی سے مرشد سے الگ ہو جائے تو وہ خشک شاخ کی طرح کاٹا جاتا اور محروم رہ جاتا ہے جو اس کو ملنا چاہئے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ منشی فتح محمد صاحب ساکن کلیانہ جو میرے بڑے بھائی شاه خلیل الرحمن صاحب جمالی و نعمانی و چشتی سے بیعت ہیں سیالکوٹ کمسریٹ میں ملازم تھے اور مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی سے ان کی بڑی ملاقات تھی میرے ملنے کے لئے قادیان میں آئے اور حضرت اقدس علیہ السلام کی زیارت بھی کرنی تھی حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے شیرینی اور کچھ نقد بھی ساتھ لائے میرے مکان میں ٹھرے جو تحفہ وہ میرے لئے لائے تھے وہ تو میں نے رکھ لیا اور جو حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے لائے تھے وہ میں لے کر حضرت اندس علیہ السلام کی خدمت میں لے گیا آپ اندر مکان میں جو مسجد مبارک کے پاس ہے تشریف رکھتے تھے۔میں نے دروازہ کی زنجیر ہلائی فرمایا کون ہے میں نے عرض کیا کہ سراج الحق ہے۔یہ سنتے ہی باہر تشریف لائے فرمایا کچھ کام ہے میں نے وہ تحفہ جو مشی صاحب لائے تھے پیش کیا فرمایا کہاں سے آیا میں نے تمام حال عرض کر دیا۔آپ وہ تحفہ لے کر اندر گئے اور فرمایا کھڑے رہو میں کھڑا رہا اس تحفہ میں سے میرے واسطے بھی کچھ لائے میں نے عرض کیا کہ وہ میرے واسطے بھی لائے تھے وہ میں نے رکھ لیا یہ سب آپ کے لئے ہے حضور ہی رکھیں پھر ان کا حال دریافت کیا میں نے یہ سب سنا دیا پھر میں چلا آیا اور آپ اندر تشریف لے