تذکرۃ المہدی — Page 259
تذكرة المهدى 259 المدعاء مولوی محمد بشیر سے شاید پانچ پانچ پرچوں کی شرط ٹھری تھی کہ طرفین کے پانچ پانچ پر چے ہو جاویں لیکن حضرت اقدس علیہ السلام نے تین پرچوں پر بحث ختم کر دی۔اس واسطے کہ جب حضرت اقدس علیہ السلام نے دیکھا کہ نئی کوئی دلیل مولوی صاحب کے پاس نہیں ہے بار بار اسی ایک بات کا اعادہ ہوتا ہے سوائے تضیع اوقات اور کچھ نتیجہ نہ تھا مولوی محمد بشیر اور مجدد علی خان نے بڑا غل مچایا کہ خلاف معاہدہ ہے آپ نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی دلیل ہی نہیں رہی تو پھر خواہ مخواہ تحریر بڑھانا کیا فائدہ دیتا ہے لوگوں کو حق وباطل کے سمجھنے میں یہی تحریر میں کافی ہیں۔دہلی میں ایک جلسہ ہوا اور بہت سے مولویوں نے محمد حسین بٹالوی کو دبایا کہ تم نے جو مرزا صاحب سے لدھیانہ میں مباحثہ کیا ہے اس میں تم نے کیا کیا اور کیا کر کے دکھایا۔اصل بحث تو کچھ بھی نہ ہوئی بٹالوی نے جواب دیا کہ اصل بحث کس طرح کرتا اس کا پتہ ہی نہیں قرآن شریف میں مسیح کی حیات رفع علی السماء کا کوئی ذکر نہیں حدیثوں سے صرف نزول ثابت ہوتا ہے میں حدیثوں پر مرزا صاحب کو لاتا ہوں اور وہ مجھے قرآن کی طرف لے جاتے تھے پھر ان مولویوں نے کہا کہ مرزا صاحب نے تو بحث چھاپ دی تم نے اب تک کیوں نہ چھاپی۔بٹالوی نے کہا کہ اشاعت السنہ میں چھاپوں گا مولویوں نے کہا کہ تیرا اشاعت السنہ پڑے بھاڑ میں الگ اس بحث کو مکمل کر کے چھپوانا تھا تو شور تو اتنا کرتا ہے اور ہو تا تجھ سے کچھ نہیں۔مولویوں نے اس کو بہت ہی شرمندہ کیا لیکن کسی کا مقولہ ہے۔شرم چه کنی مست که پیش مرداں بباید اس مباحثہ کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے چلنے کی تیاری کی اور تجھیاں منگوا میں اور اسٹیشن پر تشریف لے گئے سوار ہوتے ہوئے حضرت اقدس علیہ السلام نے خلاف عادت مجھے سینہ سے لگایا اور فرمایا کہ اب تم جاؤ پھر