تذکرۃ المہدی — Page 258
تذكرة المهدي 258 حصہ اول تھی کہ کسی طرح یہ تمام کتاب پڑھ لے بس وہ کتاب لے گئے اور دوسرے دن مشتہر کو گالیاں دیتے ہوئے آئے اور کہا کہ اب مجھ کو یقین ہو گیا کہ یہ مولوی جھوٹے ہیں۔ایک روز دہلی والے شرارت کی راہ سے حضرت اقدس علیہ السلام پر یورش کر کے کئی سو آدمی آگئے چونکہ دروازہ زینہ کا تنگ تھا اس لئے ایک ایک کر کے پڑھنے لگے اتنے میں سید امیر علی شاہ صاحب آگئے انہوں نے نہ آنے دیا وہ لوگ زور سے گھنے لگے مگر شاہ صاحب ایک قومی الحبشہ تھے ان کے زور کو ان دہلی والوں کا زور کب پہنچ سکتا ہے ایک ہی دھکے میں سب ایک دوسرے پر گر پڑے اور فرار ہو گئے اور سوائے گالیاں دینے اور ٹھٹھا بازی کرنے کے اور کچھ نہ کر سکے۔ایک روز ایک نا مراد بد بخت بیره شاه مرحوم کا بیٹا رحیم بخش فقیر آگیا چونکہ میں ہیرہ شاہ کو جانتا تھا کہ وہ نہایت نیک بخت اور صالح آدمی تھا مگر وہ حضرت اقدس علیہ السلام کے دعوے سے پیشتر گذر چکا تھا اور یہ رحیم بخش بھی مجھے کو ا جانتا تھا میرے پاس آگیا اور کہنے لگا اجی حضرت آپ کہاں میں نے کہا میں نہیں ہوں کہنے لگا تم بزرگ بزرگوں کی اولاد مرزا جی سے کیسے معتقد ہو گئے میں نے کہا بزرگ را بزرگ و دلی راولی سے شناسد کہنے لگا کہ آپ نے مرزا صاحب کو کیسے بزرگ جانا میں نے کہا اسی طرح جانا کہ جس طرح تم نے مجھے بزرگ اور میرے آباء و اجداد کو بزرگ مانا کہنے لگا آپ کے بزرگوں نے تو کرامتیں دکھاتی ہیں میں نے کہا حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی کرامتیں دکھلائی ہیں کہنے لگا ایسی کرامتیں تو میں بھی دکھا سکتا ہوں میں نے کہا دکھاؤ یہ کہہ کر میں نے ایک زور سے اس کے منہ پر طمانچہ مارا کہ اس کا منہ پھر گیا میں نے کہا اب کرامت دکھاؤ پھر میں نے دوسرا تھپڑ اٹھایا بس پناہ مانگنے لگا اور توبہ کرنے لگا بعض طبائع ایسی ہی ہوتی ہیں کہ وہ بغیر زدو کوب مانتی نہیں یہی فلاسفی آنحضرت ا کے جہاد کی تھی فائم۔