تذکرۃ المہدی — Page 24
تذكرة المهدي 24 کچھ ایسی سخت زمین اور قساوت قلبی میں بڑھی ہوئی ہے کہ جس نے یہودیوں کو بھی طاق میں بٹھایا۔سهارنپور کی قساوت اور اہل سہارنپور آپ پہلے پرانے عقیدوں پر ایسے قدم جمائے ہوئے ہیں کہ کسی قسم کی تبدیلی ان میں نہیں ہوئی نہ یہ لوگ انبیا سے واقف نہ سنت اللہ سے واقف نہ منہاج نبوت سے خبردار کچھ کند ذہن اور ایسے نبی اور پلید ہیں کہ سوائے مجنونوں اور پاگلوں یا نفس پرست مولویوں کے اور کسی کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔اگر ولی ہیں تو یہ ہیں اور جو کچھ ہیں تو یہ ہیں۔رات اور دن خوردنوش یا مقدمات کا فکر ہے جو شخص ایک قدم اٹھالتا ہے وہ دوسرا بھی اٹھا کر آگے رکھ لیتا ہے یہاں کے مولویوں کا یہ حال ہے کہ دوسروں کو کافر بنانے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں یہ لوگ ایسے دین کے معاملہ میں لنگڑے لولے ہیں کہ انہوں نے گھر کی چار دیواری سے باہر قدم نکالا ہی نہیں جوں اندھیری کو ٹھری میں بند ہوئے تادم مرگ وہیں رہے اور مرکے اندھیری گور میں جاپڑے یہاں ایک وکیل صاحب ہیں مولوی بھی ہیں اور منطقی اور فلسفی بھی ہیں وہ ایک دفعہ حضرت اقدس امام علیہ السلام کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور کچھ کسی قدر حسن عقیدت بھی ہوئی تھی۔لیکن جب حضرت اقدس امام علیہ السلام نے کتاب نور الحق عربی میں لکھی اور تحدی کی کہ اس کی مثل کوئی پیش کرے اور پانچ ہزار روپیہ انعام لے تو ان کا عقیدہ جاتا رہا کیوں عقیدہ جاتا رہا اس واسطے کہ کتاب کے نظیر لانے میں تحدی کی بس قرآن شریف کی عزت گھٹا دی واہ واہ ہنر کو عیب جاننا اور بھلے کو برا سمجھنا سہارنپور والوں ہی کا کام ہے۔اس وقت مجھے یہ آیت یاد آئی۔مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَولَك ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكُمُ عُمَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ - مجھ سے ان کی اس طرح باتیں ہوئیں۔