تذکرۃ المہدی — Page 256
تذكرة المهدى۔256 نے کہا کہ حضرت آپ میری بگھی میں بیٹھ کر جلدی مکان پر جائیں ان لوگوں کا ارادہ پر ہے پس حضرت اقدس علیہ السلام اور مولوی عبد الکریم صاحب دونوں اس بگھی میں بیٹھ کر تشریف لے گئے اور ہم سب پیدل بعد میں مکان پر گئے اور افسر پولیس نے کوچوان سے کہدیا تھا۔کہ جہاں تک ممکن ہو جلد بگھی کو پہنچانا جب حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لے گئے۔تو ہم باقی ماندہ لوگوں سے بہت سے اشخاص نے بھنا بھی شروع کر کے چھیڑ چھاڑ کرنی چاہی چونکہ وہ موقعہ بولنے کا نہ تھا اس لئے ہم خاموش ہو گئے جب تک حضرت اقدس علیہ السلام کو چھوڑ کر نگھی آئی تب تک افسر پولیس مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے رہے اور جب ہم سب بخیر و عافیت روانہ ہوئے تو افسر کھڑے رہے اور لوگوں کو منتشر کرتے رہے ایک بات یہ بھی خیال کرنے کے قابل ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے اشتہار شائع کیا کہ ہم جامع مسجد میں فلاں روز جائیں گے تو راستہ میں کئی بد بخت لوگ گھات میں بیٹھ گئے کہ بندوق کے غیر سے حضرت اقدس علیہ السلام پر وار کریں لیکن خدا کی قدرت یہ ہوئی کہ جس راہ سے ہم کو جانا تھا بگھی والوں نے کہا کہ ہم اس راہ کو نہ جاویں گے گویا خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بگھی والوں کے دل میں ہماری مخالفت ڈالدی اور جب ہم بخیر و عافیت جامع مسجد میں جاپہنچے تو وہ اشخاص جو قتل کی نیت سے کمین گاہ میں کسی کوٹھے پر بیٹھے تھے اپنی ناکامی سے ہاتھ ملتے رہ گئے وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَ اللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ الله تعالی کا قانون سچا نکلا - دشمن چه کند چو مهربان باشد دوست ایک روز مولوی محمد احمد وغیرہ کئی مولویوں کو ساتھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا دعوئی اگر ولی اللہ ہونے کا ہوتا تو میں اول آمنا و صدقنا کہتا لیکن مسیح موعود کا دعومی کھٹکتا ہے یہ آپ چھوڑ دیں تو بس ساری دیلی آپ کے تابع ہے میں نے ایک کتاب ایک یورپین کی دیکھی اس میں لکھا تھا کہ آنحضرت ا ہے