تذکرۃ المہدی — Page 248
تذكرة المهدى 248 چو مردی از غیب برون آید و کاری بکند ایک مولوی وہابی کی طرف سے ایک اشتہار اس مضمون کا نکلا کہ غلام احمد غلام نبی غلام محمد غلام رسول وغیرہ نام رکھنا شرک میں داخل ہے فتح پور کے علما یونکہ حنفی تھے ان کو یہ برا معلوم ہوا اور ان کا ایک بڑا مولوی محمد عثمان نام کو اس سے بہت رنج پہنچا۔اور اس نے ایک اشتہار اس اشتہار کے جواب میں شائع کیا کہ علماء اہلحدیث نے مرزا غلام احمد پر حملہ کیا ہے اور دراصل ہم سب مقلدین اور سنت جماعت پر حملہ کیا ہے کیونکہ ہمارے نام اس قسم کے ہیں اور ہم ان ناموں کو جائز رکھتے ہیں پھر مولوی محمد عثمان خفیہ طور سے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک لمبا رقعہ لکھا منجملہ اس مضمون کے جو اس رقعہ میں تھا یہ بھی مضمون تھا کہ اللہ تعالی کی قسم میں آپ سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسی اپنی جان سے محبت رکھتا ہوں ان وہابی مولویوں نے بڑی شرارت کی ہے میں ان کے شریک نہیں ہوں۔گو میں آپ کو مسیح موعود نہیں مانتا۔مگر میں آپ کی طرف ہوں آپ جو اشتہار وغیرہ چھوانا چاہیں میری معرفت چھوائیں میرا شاگرد کاپی نویس ہے اور عمدہ کاپی نویس ہے اس سے کاپی لکھوا دوں گا اور ایک اہل مطبع میرا شاگرد ہے میں اس مطبع میں چھپوا دوں گا سو آپ نے ایسا ہی کیا جب حضرت اقدس علیہ السلام کا اشتہار نکلا تو مولویوں کے کپڑوں میں پسو پڑ گئے دن کو چین نہ رات کو نیند اور یہ شعر ان کے مطابق ہوا الایا ایھا لکھیٹا کہ خون چوسید کھٹملیا کہ خواب آسان نمود اول ولے افتاد مشکل با اور مشورہ کیا ہمارا ساختہ سب جاتا رہا پھر اشتہار مرزا کی طرف سے نکلنے لگا تو مولویوں نے وہ اشتہار جس میں غلام رسول غلام محمد نام ناجائز بتلائے تھے واپس لیا اور کہا کہ ہمارا قصور معاف کردو لیکن مرزا کا اشتہار نہ نکلنے دو۔اب کیا تھا گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں پھر تو مولویوں میں پھوٹ پڑ گئی