تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 243 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 243

تذكرة المهدى 243 صاحب کے ساتھ ہو لیتے اس کے واسطے کیا کمی تھی مجھے اس پر ایک بات یاد آگئی حضرت اقدس کے روبرو کسی نے یہ کہا کہ اگر محمد حسین بٹالوی رجوع کرلے اور مان جاوے تو وہ عزت تو اس کی اب ہو نہیں سکتی جو پہلے تھی اس پر حضرت مولانا نور الدین محبوب رب العالمین خلیفتہ المسیح نے فرمایا کہ یہ غلط بات ہے۔اس کی عزت پہلے سے بھی زیادہ ہم لوگ اور حضرت صاحب کریں گے سبحان اللہ کیا راستی اور صداقت کا کلام خلیفتہ اسی کا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے المسیح فرمایا کہ بے شک حضرت مولوی صاحب نے سچ فرمایا۔کیا جب دنیا حضرت اقدس علیہ السلام سے پھر گئی پھر نا کیسا د شمن جان ہو گئی۔آپ کا کیا بگاڑ لیا۔اس دشمنی و عداوت سے حضرت اقدس علیہ السلام کی دن دونی رات چوگنی عزت و عظمت جبروت بڑھتی گئی۔مریدوں کی روز بروز کثرت روپیہ کی زیادتی تحائف کی بے شمار آمد مخلوق کا رجوع بے حدد بے شمار اسی طرح مولوی نذیر حسین کا بھی اگر مان لیتا یہی حال ہوتا ایک مادی ایک ناواقف آدمی حضرت مسیح موعود کی ابتدائی حالت کو دیکھ کر کہہ سکتا تھا اور ایک خشک ملا آپ کی پہلی حالت پر نظر کر کے دعوئی کر سکتا تھا۔اور کیا ہے کہ یہ اب گرا کل گرا۔اب بچھڑا اب نیست نابود ہوا بس کچھ دیر نہیں لگتی کہ یہ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا کچھ دن جاتے ہیں کہ اس کا نام و نشان مٹ جاوے گا ایک صوفی مشرب آپ کا آغاز دیکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ عنقریب اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔دنیا سے مٹ جاوے گا تباہ ہو جاوے گا اس کا نام لیوا پانی دیوا کوئی باقی نہ رہے گا اور نہ یہ خود رہے گا بلکہ بٹالوی یہودا اسکر یوطی نے تو سیالکوٹ میں عام مجمع میں یہ بات زبان سے کہدی۔اور پھر اشاعۃ السنہ میں چھاپ بھی دی کہ میں نے ہی اس کو چڑھایا تھا اور میں ہی اس کو گراؤں گا جھوٹے کا منہ کالا نیلے ہاتھ پاؤں۔ارے تو نے اشاعت السنہ میں لکھ کر سمجھ لیا کہ میرے لکھے سے یہ اس عروج کو پہنچا یہ خدا کا چڑھایا چڑہا۔خدا کا بلایا بولا خدا کا بنایا ہوا بنا۔اب کس کی مجال کہ اس کی طرف