تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 218 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 218

تذكرة المهدی 218 کر گالیاں دیتے ہیں اور کچھ شرم و حیا نہیں رکھتے لباس دیکھو تو انکا خلاف تہذیب بازاری لوگوں سے گیا گزرا ہوا دیکھو ایک یہ صاحبزادہ صاحب سراج الحق ہیں جو اس وقت موجود ہیں کیسا اچھا لباس شریفانہ ہے اور بعد عصر کی نماز کے جو توجہ الی اللہ کا وقت ہے ان کی کبوتر بازی کا وقت ہے بوڑھے بزرگ خضر صورت سفید ریش اور دیکھو تو کبوتر اڑا رہے ہیں اور قسم قسم کی بولیاں خلاف انسانیت بولتے ہیں بات بات میں گالی بات بات میں شہدہ پن پھر بہت دیر تک خاکسار سے باتیں کرتے رہے اور حالات سفر دریافت فرماتے رہے کوٹ پو تلی میں جو میرا مباحثہ ہوا تھا میں نے اس کا ذکر کیا فرمایا ہاں ہاں تمہارا خط پہنچا تھا ہمیں خوب معلوم ہے اور ہم نے بھی خط لکھا تھا میں نے عرض کیا کہ ہاں حضرت کئی عنایت نامے پہنچے وہ سب میرے پاس موجود اور محفوظ رکھے ہیں۔غرضیکہ دہلی ولوں نے وہ فتنہ اٹھایا اور شور د شر بر پا کیا کہ جو حضرت آدم کے ساتھ ابلیس نے اور حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ آپ کی قوم نے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم نے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فرعون اور آل فرعون نے اور حضرت مسیح کے ساتھ ان کی قوم بنی اسرائیل نے وغیرہ وغیرہ کہ تمام حال لکھنے اور بیان کرنے سے بالا تر ہے مگر - تصر بیان کیا جاتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ وہ جو حدیث و مشقی صحیح مسلم اور مشکوۃ دہلی دمشق ہے میں آیا ہے جس کو حدیث نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا نزول دمشقی منارہ سفید کے قریب ہو گا اس کے معنی گوادر بھی ہوں لیکن اس عاجز کو جو راقم سفرنامہ ہے خدا وند کریم نے یہی سمجھائے ہیں کہ وہ دمشق دہلی ہے اور منارہ جامع مسجد دہلی ہے کیونکہ جامع مسجد آج کل وہلی نے شرقی جانب ہے چونکہ دمشق پایہ تخت قریش تھا اور دہلی پایہ تخت خاندان مغلیہ تھا اس کے بعد یہ پایہ تخت نصاری کا ہوا اور مسیح موعود کا نزول بھی نصاری اور فتن