تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 214 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 214

تذكرة المهدي 214 تک زور دیا کہ ائمہ اربعہ کو منصب نبوت دے دیا تو خدا نے اپنی مصلحت سے اس فرقہ کو پیدا کیا تاکہ مقلد لوگ راہ راست اور درمیانی صورت میں رہیں صرف اتنی بات ان میں ضرور بری ہے کہ ہر ایک شخص بجائے خود مجتہد اور امام بن بیٹھا اور ائمہ اربعہ کو برا کہنے لگا میں نے عرض کیا کہ اس فرقہ کے بانی اور پیشوا مولوی نذیر حسین صاحب کی نسبت آپ کیا فرماتے ہیں فرمایا کہ ہمار ا مولوی نذیر حسین صاحب پر نیک گمان ہے وہ بھی ولی اللہ ہے میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے مولوی نذیر حسین صاحب کی نسبت بہت کچھ برا کہا ہے فرمایا معاف کرانا چاہئے وہ شخص برا نہیں جیسا کہ لوگ گمان کرتے ہیں ویسا نہیں ہے پھر میں جب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت سے رخصت ہوا تو دہلی میں آکر مولوی نذیر حسین صاحب کے مکان پر گیا اور آواز دی مولوی صاحب نے ایک لڑکا اندر بھیجا کہ دریافت کرے کہ کون ہے میں نے کہا کہ ایک مسافر ہوں۔آپ باہر آدیں کچھ کام ہے مولوی صاحب باہر آئے اور السلام علیکم کیا اور کہا کیا کام ہے؟ میں نے کہا آرام سے بیٹھ کر پوچھئے کوئی چار پائی منگوائیے مولوی صاحب نے چار پائی منگوائی ہم دونوں بیٹھ گئے فرمایا آپ کہاں رہتے ہیں۔میں نے کہا میں رہتا تو سر سادہ ضلع سہارن پور میں ہوں لیکن اب قادیان سے آرہا ہوں۔کہا حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے بھی ملے میں نے کہا ہاں ان کے پاس سے ہی آرہا ہوں کہا کہ بہت اچھا ہوا جو آپ وہاں گئے اور ملے اور وہ ان مقدس لوگوں میں سے ہے جو پہلے مقدس ہو گزرے ہیں۔سر سادہ میں وھو من شاہ صاحب بھی تھے نام ان کا مخدوم احمد صاحب تھا اور وہ مولوی فضل حق خیر آبادی کے مرشد تھے میں نے کہا کہ میں ان کا ہی ہوتا ہوں پھر کہا کہ آپ کے والد کا کیا نام ہے ؟ میں نے کہا کہ شاہ حبیب الرحمن صاحب پھر دوبارہ مولوی صاحب نے مصافحہ کیا اور کہا کہ ہم شاہ حبیب الرحمن صاحب سے ملے ہیں آپ صاحب زادہ ہیں آپ تشریف لائے ہیں میں نے تمام سرگذشت قادیان کی بیان کی اور کہا کہ اب میں