تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 210 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 210

تذكرة المهدى 210 اور سب سے بڑا بت حضرت اقدس کا پہلا مفر اول مکذب اگیتا ایذارساں مولوی محمد حسین بٹالوی ہے اس خواب سے مجھ کو تو خدا نے نصیحت اور عبرت دی لیکن وہ خواب میں حضرت اقدس علیہ السلام پر ایمان نہیں لایا اور بدبخت مكذب ہی ذلت کی موت سے مرا۔اہل علم تو یوں عاجز ہوئے کہ عربی میں الہی تائید سے حضرت اقدس علیہ السلام نے کتابیں لکھیں کوئی انکا مقابلہ نہ کر سکا۔اور عام یوں عاجز ولا چار ہوئے کہ طاعون زلزله طوفان دنیا میں آیا اور محمد حسین بٹالوی بڑا بت اور یہودا اسکر یونٹی یوں عاجز اور ذلیل ہوا کہ عربی کتابوں کا مقابلہ نہ کیا جلسہ مہوتسومین کچھ پیش نہ کر سکا اور اپنی اولاد وغیرہ کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہوا۔کسی نجی پر سد کہ بھیا کون ہو تین ہو یا ڈیڑھ ہو یا پون ہو اللهُمَّ مَالِكِ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَئ قَدِير یہ میری حاضری کا حضرت اقدس کی خدمت میں پہلا موقعہ تھا جو ایک معجزہ ۱۸۸۲ء اور ۱۲۹۸ھ تھی ایک روز فرمایا چلو سیر کو چلیں وہ وقت عصر کی نماز کے بعد کا تھا بارش برس کر تھی تھی تھوڑا سا آفتاب او پر تھا پس حضرت اقدس علیہ السلام اور میں اور دو یا تین آدمی اور تھے جن کا نام مجھے یاد نہیں میر کو موضع بوٹ کی طرف چلے ہر جگہ پانی راستہ میں بھرا ہوا اور کیچڑ بہت تھی جس سے چلنا دشوار تھا پس حضرت اقدس علیہ السلام بے تکلف چلتے تھے اور ہم سب تکلف سے قدم دیکھ دیکھ کر اٹھاتے تھے کوئی دو میل کے فاصلے پر نکل گئے۔آپ نے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب نماز مغرب کا وقت قریب آگیا چلو واپس چلیں میں نے عرض کیا کہ حضور کی جیسے مرضی مجھے اس اللہ کی قسم ہے کہ جس؟ کے قبضہ قدرت میں میری اور تمام مخلوق کی جان ہے اور روسیاہ ہے وہ اور لعنتی