تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 204 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 204

تذكرة المهدي 204 مقتدی کھڑے ہوتے تھے امام کا منہ پہلے جانب شرق ہو تا اور امام کا نام ناقوس رکھا پس وہ ناقوس پہلے زور سے کہتا کہ یا ہو یا من ہو۔پھر سب مقتدی اس لفظ کو کہتے پھر وہ ناقوس جانب شمال منہ کرتا اور کہتا چار دن طرف د سیند اڈ ہول میندا یعنی چاروں طرف دکھائی دیتا ہے معشوق ہمارا ڈھول دولہ کا بگاڑا ہوا لفظ پنجابی ہے پھر مغرب کی طرف منہ کر کے کہتا وہ پنجابی جملہ ہے میرے یاد نہیں رہا۔پھر دکن کی طرف منہ کر کے کوئی جملہ ادا کرتا۔بس یہ نماز تھی اسلام سے سخت نفرت دلاتا تھا کئی شہروں گاؤں میں دورہ کرتا تھا بہت خاکروب جمع ہوتے ایک دفعہ میں فیروز پور میں تھا اور یہ امام الدین بیگ بھی وہاں بھنگیوں کے مجمع میں بیٹھا ہوا تھا پھر اس کی سواری چلی آگے آگے ڈھول ڈھپڑی تاشے بجتے تھے لیکن اپنا پکوا کر کھاتا صرف ان سے نقد لے لیتا مجھے اس نے دیکھ لیا کہنے لگا او پیر قادیانی چلائیں مرزا غلام احمد کول۔میں نے کہا کہ میں ابھی تو آیا ہوں ایک مہینہ کے بعد جاؤں گا باقی اس کا حال آئیندہ کہیں موقعہ پر لکھا جائے گا۔مجدد امام رسول نبی بننا اور نرا زبان سے دعوی کر دینا تو آسان ہے لیکن وہ کام کر کے دکھاتا کہ جو اس کے منصب امامت کے لائق ہے اور جس کام کے لئے وہ مبعوث ہوا۔ذرا کاری دارد - یہ کام اسی شخص کا تھا جو کہہ گیا اور کر کے دکھا گیا جتنا گیا بتلا گیا سوتی دنیا کو اپنے علم خدا داد سے تقریر سے تحریر سے نشانات سے کرامات سے حال سے قال سے رفتار سے کردار سے ہلا ہلا کر جگا کے بیوقوفوں کو و قوف دلا کے اپنی صداقت کے بین نشان دکھلا کے ظاہر کر گیا کہ در حقیقت میں خدا کا بھیجا ہوا مامور ہوں چنانچہ فرمایا یونسی غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے مصطفیٰ پر ترا بیحد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام دل کو یہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے