تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 202 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 202

تذكرة المهدي 202 حصہ اول مکلف نہیں ہوں ابھی نا بالغ ہوں نا بالغ پر نماز کب جائز ہے شرعی بالغ پندرہ سولہ برس میں ہو جاتا ہے اور روحانی بالغ چالیس سال میں ہوتا ہے ابھی میری پینتیس سال کی عمر ہے جب میں چالیس برس کا ہو جاؤں گا تب احکام شرعی و روحانی کا پابند ہوں گا اور اپنے دعوئی میں یہ کریما کا شعر پڑھا کرتا تھا کہ چهل سال عمر عزیزت گذشت مزاج تو از حال طفلی نگشت بس ان کے دعوئی اور دلائل کا کریماہی انتہا تھا قرآن شریف سے ناواقف تھا صوفیائے کرام کی کتابوں سے بھی ناواقف تھا اور دعوے ایسے تھے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت سید عبد القادر جیلانی اور بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی اس کے نزدیک گویا ایک طفل مکتب تھے نعوذ باللہ منہا۔اب اس کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ مر گیا گل گیا۔کیا ہوا۔(۱۳) منیجمله مدعیان امامت و مجددیت وغیرہ کے ایک مولوی فضل الرحمان گنج مراد آبادی بھی تھے وہ تو نہیں لیکن ان کے مرید پیران نے پرند بلکہ مریدان مے پرانند و مدعی ست گواہ چست بیان کرتے تھے کہ مولوی فضل الرحمان شاہ صاحب ہی اس چودھویں صدی کے مجدد ہیں بہر حال مولوی صاحب نے دعوئی نہیں کیا لیکن جب تک کوئی شخص اپنے پیر کی زبان سے اشارہ یا کنایتاً تھوڑی بہت بات نہ سنے تو ایسی عظیم الشان بات منہ سے نہیں نکال سکتا۔سو دہ بھی اس دنیا سے رحلت کر گئے۔اور چودھویں صدی کا کچھ کسی قدر بھی کافی حصہ نہیں لیا۔(۱۵) منجملہ مدعیان کے ایک چراغ الدین ساکن جموں تھا اس کا بیان لکھنے کی ضرورت نہیں ہے بہت کچھ حضرت اقدس علیہ السلام نے لکھ دیا ہے ہماری طرف سے اتنا ہی لکھ دیتا کافی ہے کہ مرگئے مردود جن کی فاتحہ نہ درود- (۱۷) ایک مرزا امام الدین بیگ ساکن قادیان مرزا امام الدین کا حال تھا اس نے بھی بھنگیوں خاکروبوں کا پیشوا ہونے کا دعویٰ کیا تھا لیکن تھاد ہر یہ اس کا سارا جلسہ ساری کارروائی شروع سے