تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 197 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 197

تذكرة المهدى 197 متوفی سے تحریری اور زبانی کہا لیکن مباہلہ نہ کیا اور ایک وبال مولوی صاحب پر یہ پڑا کہ بار بار ان کی زبان سے نکلا کہ جیسے الہام میرزا غلام احمد قادیانی کو (عليه الصلوۃ والسلام) ہوتے ہیں اس سے بڑھ کر ہمارے مریدوں کو بھی ہوا کرتے ہیں گویا مفتری علی اللہ بھی بنا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اشتہار دیا تھا کہ مولوی رشید احمد گنگوہی اور احمد اللہ امرتسری اور رسل بابا د غیر ہم مجھ سے مباہلہ کرلیں گیارہ عذابوں میں سے ایک یہ عذاب ضرور ان پر اگر یہ مقابلہ مباہلہ نکریں گے پڑے گا منعملہ ان عذابوں کے ایک یہ عذاب تھا کہ سانپ کاٹے اور پھر وہ جانبر نہ ہو سکے۔سو مولوی رشید احمد گنگوہی متوفی کو سانپ نے کاٹا۔حالانکہ مولوی صاحب کو سانپ کے کاٹے کا علاج دعوئی سے تھا۔اور سینکڑوں کو س تک ان کا پڑھا پانی جاتا تھا لیکن یہ عذاب الہی تھا اور سانپ نہیں تھا بلکہ غلاظ شداد فرشتوں سے ایک فرشتہ تھا اور سانپ کے ڈسنے کے بعد تین چار روز تک زندہ بھی رہا لیکن اسی زہر سے مرگیا خدا تعالیٰ نے دکھا دیا کہ اب یہ مامور د مرسل کی مخالفت کا عذاب ٹل نہیں سکتا۔ان کے مرنے سے تین ماہ یا دو ماہ پیشتر مجھے ایک کشفی نظارہ میں دکھائی دیا کہ راستہ میں ایک مکان کو چھوڑ کر برے کپڑے پہنے ہوئے مولوی رشید احمد زمین پر لیٹ گئے میں نے یہ اپنا کشف حضرت اقدس علیہ السلام سے بیان کیا اور اس وقت حضرت فاضل امروہی بھی تشریف رکھتے تھے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کی موت آگئی سو ایسا ہی واقعہ ہوا الحمد للہ علی ذلک - (9) منجملہ ان کاذب مدعیان مہدویت کے ایک شخص شیخ محمد یوسف سہارنپور کا تھا اس کو کچھ علم عربی تھا سیاہ فام پستہ قد ایک قسم کا اس کو قطرب مانیا تھا اس نے بھی دعوئی مہدویت کیا تھا اتفاق سے وہ قادیان بھی آیا تھا میں اور جناب محترم سید السادات میر ناصر نواب صاحب ابو الضعفاء سلمہ اللہ تعالٰی ہم اس سے ملنے کے لئے گئے تھے اور وہ ایک مسجد میں ارائیوں کی ٹھرا تھا وہ ہمارے۔