تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 192 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 192

تذكرة المهدی 192 لوگ خدا سے نہیں ڈرتے اور اللہ تعالی پر افترا کرتے ہیں صاحبزادہ صاحب کیا خدا تعالی کے ہاں اندھیر ہے یا اس کی خدائی کمزور اور ضعیف ہے دنیا کی گورنمنٹ میں اندھیر نہیں جو ذرا بھی سراٹھا دے اور اپنے آپ کو ملازم بتا دے تو وہ پکڑا جاتا ہے اور وہ تو احکم الحاکمین اور شہنشاہ اور مالک و خالق و قادر توانا ہے۔وہ نہیں گرفتار کرے گا ور ہی سال کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مولوی عبد العزیز دیوانہ ہو گیا اور برہنہ پھرنے لگا اور خورونوش کی بھی تمیز نہیں رہی۔اور یہاں تک حالت گزری کہ بعض دفعہ گوہ اور گوبر بھی کھا لیتا تھا اسی حالت خراب میں مر گیا۔ـى (۵) ایک شخص لاہور میں تھا کہ جو گلی کوچوں میں لا إلہ إلا أنَا مَهْدِی رَسُولُ اللہ کا نعرہ لگاتا پھرتا تھا اور کوئی اس کو نہیں پوچھتا تھا اور نہ کسی نے اس پر کفر کا فتویٰ لگایا اور نہ کسی نے باز پرس کی ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام جو لاہور تشریف لے گئے اور مسجد شاہی میں جاتے تھے اور ہزاروں آدمی ساتھ تھے یہ دیوانہ مہدی بھی آگیا۔اور دوڑ کے حضرت اقدس علیہ السلام کے گلے میں کپڑا ڈال لیا بمشکل تمام لوگوں نے ہٹایا اور کپڑا آپ کی گردن سے نکالا وہ بھی اسی جنون کی حالت میں مرگیا اور کچھ خبر نہیں ہے کہ اس کو کس نے وقتا یا کس نے کفنایا کہاں گاڑا۔(4) ایک شخص لاہوری الور میں گیا اور دو شخص اس کے ساتھ تھے وہ بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور سب سے جہاد کا طالب تھا ایک ہمارے دوست وزیر محمد صاحب صباغ موحد کے مکان پر بھی دو تین روز تک رہا ان کا بیان ہے کہ یہ کبھی کبھی رو تا اور چلاتا اور کہتا کہ ہائے مجھے کوئی نہیں پوچھتا اور کبھی کہتا کہ خدا ہی جانے میں مسیح علیہ السلام ہوں یا مہدی علیہ السلام ہوں اور کبھی کہتا کہ میں ہی مسیح بھی ہوں اور میں ہی مہدی بھی ہوں اور اس کو مالیخولیا بھی تھا۔صرف اردو پڑھا ہوا تھا لیکن قرآن شریف نہیں پڑھ سکتا تھا اور کبھی کہتا کہ وزیر محمد تم میرے