تذکرۃ المہدی — Page 191
تذكرة المهدى 191 ان کا نام ونشان مٹ گیا اور وہ ایسے ہلاک ہوئے کہ چند روز میں ہی نیست و نابود ہو گئے سو حقیقت میں جیسا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا وہ جوں کا توں ہوا سوائے آپ کی ذات مبارک اور وجود باجود کے تمام ناکام و نامراد رہ کر نیست و نابود ہو گئے۔(۲) چنانچہ حافظ محمد جان تو دیوانہ دیگر مدعیان مجددیت کا انجام ہو گئے اور ان پر ایسی خدا کی مار پڑی کہ نماز روزہ عبادت سب چھوٹ گیا عیش و آرام سب گیا اللہ تعالی کا نام بھی منہ سے نہیں نکلتا ہے ایک بازاری عورت فلسفہ رنڈی ان کی مرید ہوئی تھی سو وہ بھی مرکھپ گئی اس کا دنیا سے نام مٹ گیا اور اب وہ اندھے ہو گئے اور محلہ میں سے جو روٹی مل جاتی ہے وہ کھا لیتے ہیں بس اسی پر گزارہ ہے حافظ قرآن تھے ده قرآن شریف بھی بھول گئے بات یہ سچ ہے کہ جو شخص مرسل الہی رو گردانی میں ہے وہ طرح طرح کی آفات و مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خير الدنيا و الأخيرة اسی جہاں میں ہو جاتا ہے ان کے علاوہ۔(۳) ایک مولوی ابو القاسم ساکن امرد ہہ ہیں انہوں نے بھی مجددیت کا اور مہددیت کا دعویٰ کیا تھا وہ بھی دیوانے اور مجنون ہوئے اور اب خدا جانے زندہ ہیں یا مردہ۔یہ حضرت فاضل امرد ہی مولانا سید محمد احسن صاحب کے رشتہ دار بھی ہیں۔(۴) ایک ارکاٹ میں مولوی عبد العزیز تھے انہوں نے دعوئی مہدویت کیا اور اپنا طریقہ عزیزیہ نکالا ایک رسالہ ان کا میں نے دیکھا ہے اس میں انہوں نے اپنی مہدویت کا اعلان کیا اور معراج لکھی کہ مجھے معراج ہوئی وہ بعینہ ترجمہ حدیث بخاری کا ہے کہ جس میں آنحضرت نے اپنا حال معراج کا بیان کیا ہے صرف فرق اس قدر ہے کہ اس میں نام محمد ا اور اس میں نام ہر جگہ عبد العزیز مهدی ہے یہ رسالہ میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کو سنایا فرمایا یہ