تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 187 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 187

تذكرة المهدي 187 حصہ اول ہیں سو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت! سراج الحق دریافت کرتا ہے کہ مرشد کے قدم چومنے جائز ہیں کہ ناجائز ہیں وہ شخص جو آنحضرت ا کے سامنے سفید پوش بیٹھے تھے لمبا ہاتھ کر کے اور ہلا کر زور سے کہا کہ نہیں نہیں مجھے اس وقت یہ خیال ہوا کہ آنحضرت ا سے میں نے دریافت کیا تھا نہ کہ اس سے یہ کون ہیں جو خود بخود بول اٹھے پس میں اس خیال کے آتے ہی اس جگہ سے اٹھا اور سیدھا جہاں کو نمبر دار پاس چھوٹے چھوٹے نقطہ دیئے ہوئے ہیں جا کر حضرت رسول کریم اللہ کے پاس چپکے سے جا بیٹھا میں نے دریافت کرنا چاہا تو آنحضرت ﷺ نے میری طرف نیچی نگاہ سے دیکھا اور ایک پیر مبارک میری طرف یعنی واہنا پیر پھیلا دیا۔میں نے دیکھا تو آپ کے پائے مبارک میں سوتی جراب سفید تھی پس میں نے قدم مبارک دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر چوم لیا۔اور آنکھوں سے لگایا پھر آپ ﷺ نے پائے مبارک اکٹھا کر کے سکیٹر لیا اور سوتی جراب قدم مبارک سے اتار کر مجھ کو عنایت فرمائی میں نے وہ جراب بڑے ادب سے لے لی اور جب میں پہلی جگہ سے اٹھ کر آپ ا کے پاس گیا تو جاتے ہوئے بائیں طرف پانچ چار آدمی میلے کپڑے پہنے ہوئے اور اکڑو بیٹھے ہوئے دیکھے اور ان کے آگے پیالیاں بھنگ وغیرہ کی رکھی ہیں۔اور دو تارہ ڈھولک بجارہے ہیں اور کچھ گا رہے ہیں جو سمجھ میں نہیں آیا اس وقت میں نے خیال کیا کہ اللہ اللہ آنحضرت الا لو تو تشریف رکھتے ہیں۔اور یہ گانے بجانے والے بھی ایک طرف موجود ہیں اور پھر دل میں کہا کہ آنحضرت ا کی طرف جو شخص پشت دے کر برہنہ بدن اور سر بیٹھا ہے یہ کون بے ادب اور گستاخ ہے جو آنحضرت سید کائنات سید المرسلین کو پشت دیئے ہوئے بیٹھا ہے اور کوئی اس گستاخ کو منع نہیں کرتا اور وہ لوگ جو حضرت رسول کریم کی زیارت کو ہندو مسلمان عیسائی وغیرہ جاتے تھے وہ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ حضرت رسول کریم اللہ عرب سے ہجرت کر کے اب ہند میں آگئے