تذکرۃ المہدی — Page 186
تذكرة المهدى 186 آتیں اور کہتیں کہ مرزا صاحب نے آپ کے پاس بھیجا ہے تعویذ لکھ دو میں بھی حضرت اقدس علیہ السلام کے دیکھا دیکھی الحمد شریف ہی لکھ دیا کرتا تھا۔سورہ فاتحہ کا عمل ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سر سادہ سے چل کر قادیان شریف حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت مولانا مرشد نانورالدین صاحب خلیفتہ اسیح علیہ السلام بھی آئے ہوئے تھے اور صبح کی نماز پڑھ کر بیٹھے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام بھی تشریف رکھتے تھے حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ پیر صاحب بہت سے پیر دیکھے کہ وہ عملیات اور تعویذ کرتے ہیں کوئی عمل آپ کے بھی یاد ہے جس کو دیکھ کر ہمیں بھی یقین آجائے کہ عمل ہوتا ہے میں نے عرض کیا کہ ہاں یاد ہے فرمایا دکھاؤ اور میں نے عرض کی کہ ہاں وقت آنے دیجئے۔دکھلا دوں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ضرور صاحبزادہ صاحب کو یاد ہو گا ان کے بزرگوں سے عمل چلے آتے ہیں کوئی دو گھنٹہ کے بعد ایک شخص آیا جس کو ذات الجنب یعنی پہلی کا درد شدت سے تھا میں نے عرض کی کہ دیکھئے اس پر عمل کرتا ہوں حضرت خلیفتہ المسیح نے فرمایا کہ ہاں عمل کرو۔حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ہاں عمل کرو میں نے اسی شخص پر دم کیا اس کو درد سے بالکل خدا تعالی نے آرام کر دیا اور شفادی۔جب اس کو آرام ہو گیا تو حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ مسمیریزم ہے میں نے اس زمانہ میں مسمیریزم کا نام بھی نہیں سنا تھا۔اور نہ میں جانتا تھا کہ مسمیریزم کیا چیز ہوتا ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا صاحبزادہ صاحب تم نے کیا پڑھا تھا میں نے عرض کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک ودعلی محمد میں نے الحمد شریف پڑھی تھی۔القصہ جب میں حضرت ﷺ کی مجلس میں بحالت کشف ادب سے بیٹھ گیا تو میں نے جو میرے پاس ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے ان سے کہا کہ تم آنحضرت سے یہ مسئلہ دریافت کر دو کہ مرشد کے قدم چومنے جائز ہیں کہ ناجائز