تذکرۃ المہدی — Page 184
تذكرة المهدي 184 میں دیگر مجروں میں بٹھا دیتے تو دین ہم تک کب تک پہنتا وہاں تو تلوار تھی اور جہاد تھا اور آپ بار بار فرماتے تھے کہ الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ یعنی جنت تلواروں کے سایہ میں ہے ہمارا زمانہ بھی منہاج نبوت کا زمانہ اور ہمارا طریق بھی منہاج نبوت کا طریق ہے اب لوگوں کو چاہئے کہ حجروں میں آگ لگادیں تسبیح ہاتھ سے پھینک دیں رنگے کپڑوں کو جلا کر راکھ کر دیں اور جہاد کے لئے اور دین کی حمایت کے لئے مال سے جان سے ہاتھ سے جس طرح سے ہو سکے کریں جب جهاد سیفی جہاد تھا اور اب جہاد لسانی و قلمی ہے جہاو جب بھی تھا اور اب بھی ہے لیکن صورت جہاد بدل گئی ہے مومن کبھی قشر پر راضی نہیں ہوتا وہ مغز چاہتا ہے لفظ پرستی کفر ہے نرے لفظوں کے پڑھنے سے کچھ نہیں ہوتا اس پر عمل کرنے سے اس کے مطابق چلنے سے کام چلتا ہے۔حضرت اقدس کبھی تعویز آج کل کے تعویذ گنڈہ اور اعجاز مسیحا درویشوں فقیروں مولویوں کی طرح۔نہیں لکھتے تھے پانچ چار دفعہ آپ کو تعویذ لکھنے کا کام پڑا ہے اور وہ یوں پڑا ہے کہ خلیفہ نور الدین صاحب ساکن جموں کے اولاد نہیں ہوتی تھی انہوں نے اولاد کے بارہ میں دعا کرائی آپ نے فرمایا ہاں ہم دعا کریں گے خلیفہ صاحب نے عرض کی کہ ایک تعویذ مرحمت ہو جائے فرمایا لکھدیں گے پھر ایک دفعہ عرض کی فرمایا ہاں یاد دلا دیتا لکھ دیں گے اب خلیفہ صاحب نے ادب سے تعویز کے لئے خود عرض کرنا مناسب نہ جانا اور جناب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ چھوٹے سے تھے ان سے کہا کہ تم تعویذ حضرت اقدس سے لا دو ان کو حضرت اقدس علیہ السلام کے پیچھے لگا دیا۔یہ جب جاتے تو کہتے ابا خلیفہ جی کے واسطے تعویذ لکھد و دو چار دفعہ تو ٹالا لیکن یہ پیچھے لگ گئے ایک دن انہوں نے کہا ا با تعویذ لکھد و حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمیں تو تعویذ لکھنا نہیں آتا محمود کو جس بات کی ضد پڑ جاتی ہے مانتا نہیں تعویذ لکھ کر دیدیا۔آپ نے معہ بسم