تذکرۃ المہدی — Page 173
تذكرة المهدي 173 پشت دیکر بیٹھا ہے اور آنحضرت اللہ کے بھی سفید کپڑے ہیں اور چادر سفید اوڑھے ہوئے چار زانوں تشریف رکھتے ہیں آنکھوں میں سرمہ ہے۔۔۔۔۔۔مگر فرش پر تکلف نہیں ہے پس میں وہاں جا کر سب کے پیچھے ادب سے بیٹھ گیا اور یہ دل میں خیال آیا کہ یہ مجلس مبارک آنحضرت ا کی ہے۔جہاں جگہ ملے وہیں پر بیٹھنا چاہتے پس میں وہیں بیٹھ گیا ان دنوں میری اور محمد یوسف جیندی اور نیم حاجی عبداللہ کی بحث رہا کرتی تھی ان کو مجھ سے عداوت تھی کیونکہ تمام شہر کے بڑے بڑے لوگ مجھ سے مرید تھے جیسے قاضی صاحبوں کا خاندان جو عثمانی ہے اور یہ خاندان قدیم سے ہمارے خاندان کا مرید ہے ہمارے بزرگوں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے فرمان کا غذات ان کے یہاں موجود ہیں کیونکہ ہمارے جد اعلیٰ حضرت قطب الاقطاب قطب جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ بادشاہی وقت میں عہدہ قضا پر مامور تھے۔اور جو کہیں قاضی ہو تا تھاوہ آپ کی رائے اور تحریر پر قاضی ہو تا تھا اور سوا اس کے حضرت شیخ الاسلام بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ جن کے بھائی ولی کامل کی اولاد سے حضرت مولانا د اولنا نور الدین خلیفتہ المسیح ہیں ان کا دستور تھا کہ جب کسی کو خلافت دیتے تو فرماتے کہ مولانا جمال الدین احمد کی خدمت میں جاؤ اگر وہ خلافت منظور کر لیں تو درست ورنہ نہیں سو ایسا ہی ہوتا رہا کہ جس کی خلافت حضرت قطب جمال الدین منظور کر لیتے حضرت بابا صاحب بھی منظور فرمالیتے اور جو قطب صاحب نامنظور کرتے تو بابا صاحب بھی نا منظور کرتے اور اہے کہ بعض کے خلافت نامے قطب صاحب نے منظور نہیں کئے اور پھاڑ ڈالے اور انہوں نے حضرت بابا صاحب کی خدمت میں عرض کیا تو بابا صاحب نے فرمایا که دریدہ جمال را فرید نتواند دوخت اور پھر اس کو خلافت نہیں ملی چنانچہ جن کے خلافت نامے قطب صاحب نے چاک کئے ان کے یہ نام ہیں نظام الدین اور شیخ صابر یہ سب حال میر الاولیاء سبع سنابل اقتباس الانوار چشتیه بهشتیه آئین اکبری تاریخ فرشتہ وغیرہ میں لکھا ہے۔لکھا۔