تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 172 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 172

تذكرة المهدي 172 کی خدمت کے لئے مجھے چن رکھا تھا اور اسی لئے پیدا کیا تھا۔اور میرا نام بھی میرے والد نے نصیر الدین رکھا تھا پھر سراج الحق رکھ دیا اور صغرسنی میں میرے والد مجھے جنگلوں میں لے جاتے۔اور مجاہدے کراتے اور بارہا فرماتے کہ سراج الحق تیری قسمت میں ایک ایسی نعمت ہے کہ جو ہمیں نصیب نہیں ہوگی اور ہم اس سے محروم رہیں گے وہ اپنے نور فراست سے دیکھتے تھے کہ امام وقت کا زمانہ اس کو نصیب ہو گا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اِتَّقُوا مِنَ فِرَاسَتِ الْمُؤْمِنِ فَانَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ یعنی مومن کی فراست سے ڈرنا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کی خوردبین سے دیکھتا ہے پس ایک دفعہ میں بمقام جیند آیا اور درود شریف اور استغفار میں مشغول رہا یہ زمانہ ۹۶ ہجری کا زمانہ تھا۔مسیح ایک روز بعد نماز عشاء مجھے کشفی حالت کشف صحیح بتصدیق مسیح طاری ہوئی اور میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک مکان کے اندر سے ہندو اور عیسائی اور مسلمان آتے ہیں اور میں مسجد میں وضو کر رہا ہوں۔میں نے ان لوگوں سے جو ہندو تھے دریافت کیا کہ تم کہاں سے آرہے ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم رسول مقبول اللہ کی خدمت میں گئے تھے وہاں سے آرہے ہیں پھر میں نے یہ سوچا کہ مسلمانوں سے کیا دریافت کرنا یہ تو مانتے ہی ہیں ہندوؤں اور عیسائیوں سے آپ کی تعریف پو چھنی چاہئے پس میں نے ان سے پوچھا کہ تم نے حضرت رسول کریم اے کو کیسا پایا تو انہوں نے کہا سبحان اللہ جیسا سنتے تھے ویسا ہی پاک اور مقدس رسول پایا تب میں بھی اٹھ کر اسی طرف چلدیا اور مکان کے اندر گیا دیکھا تو آنحضرت ا تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے سامنے فرش پر کچھ لوگ بڑے بڑے عمامہ والے پنجابی شکل و لباس کے آدمی بیٹھے ہیں اور سامنے رسول اللہ ﷺ کے ایک شخص سفید پوش بیٹھا ہے اور آپ کے بائیں جانب ایک شخص برہنہ بدن برہنہ سر کانوں تک بال چیچک رو برہنہ پا صرف ایک میلا سا تھ باندھے بیٹھا ہے اور آنحضرت الیا کو