تذکرۃ المہدی — Page 169
تذكرة المهدي حاضر ہوا اور وہ یہ ہے۔169 اپنی سابقہ حالت کا نقشہ مجھے بچپن سے قرآن شریف کے پڑھنے کا بہت شوق تھا یہاں تک کہ ایک پارہ روز کی بجائے ایک منزل ہر روز پڑھتا تھا پھر ایک مدت کے بعد ایک قرآن شریف ہر روز کئی سال تک پڑھا اور ساتھ ہی نماز اشراق اور چاشت اور زوال اور اوابین اور تجد بھی پڑھتا تھا۔پھر ایک دفعہ شوق وظائف جو ہوا تو کئی مہینے تک سوالاکھ بار ہر روز یا و باب پڑھا اور کئی مہینے تک اللهُ الصَّمَدُ سوا لاکھ بار پڑھتا رہا پھر ایک بار ایک سال تک اسم ذات یا اللہ تین لاکھ ساٹھ ہزار بار پڑھتا رہا ایک دفعہ ایک سو دن تک ہر روز لا اله الا انت سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔پنتالیس ہزار بار روز پڑھتا رہا جن دنوں میں یہ پڑھا کرتا تھا ایک درویش ولایتی بھی وہاں رہتے تھے وہ مجھے دیکھ کر ہنستے اور کہتے شمار میکنی اسم باری تعالٰی نمی خوانی یک بار بخوان و از دل بخوان ایک دفعہ میں بارہ ہزار مرتبہ یا بدیع الْعَجَائِبِ بِالْخَيْرِ يَا بَدِيعُ پڑھتا تھا پھر مہینوں اللہ ھو کی ہیں میں ہزار بار ضر میں لگاتا اور لا الہ الا اللہ کی بھی بارہ بارہ ہزار ضربیں لگاتا اور درویشوں فقیروں علما کی صحبت میں بھی بہت جاتا۔ایک دفعہ میں نے ارادہ کیا کہ صلواۃ المعکوس ھنی چاہئے۔اور سنا تھا کہ حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے باره برس تک کنویں میں الٹے لٹک کر پڑھی ہے لیکن اتفاق سے کتاب سیرة الاولیاء جو حضرت شیخ نظام الدین محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کے ملفوظات میں ہے مل گئی۔اس کو میں نے اول سے آخر تک پڑھا تو ایک مقام پر یہ لکھا ہوا دیکھا کہ حضرت فرید الدین گنج شکر نے اپنے پیر حضرت قطب الدین بختیار کاکی دہلوی سے عرض کیا کہ مجھے صلوٰۃ المعکوس پڑھنے کی اجازت مل جائے انہوں نے فرمایا کہ فرید الدین اس میں کیا دھرا ہے۔آخر کار بار بار کے عرض کرنے سے اجازت دیدی تو انہوں نے ایک چلہ تک معکوس نماز پڑھی اور دو چار منٹ کے لئے الٹے