تذکرۃ المہدی — Page 146
تذكرة المحمدي 146 رکھا جائے تو چاروں طرف سے عرائض آنے لگے کہ ہم اپنا نام مردیم شماری میں کیا لکھوائیں اس ارادہ الہی کے ماتحت حضرت اقدس علیہ السلام کو تحریک ہوئی خود کنی و خود کتانی کار را خود وی رونق تو آن بازار را حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک روز بوقت نماز عشاء جو بہت سے احباب موجود تھے فرمایا کہ بہت سے لوگوں کے ہر شہر و دیار سے خط آرہے ہیں کہ مردم شماری ہو رہی ہے ہم اپنا کیا نام لکھوائیں چونکہ اس وقت میں مکان پر چلا گیا تھا مجھے مکان سے حضرت اقدس علیہ السلام نے بلوایا اور فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب تم کو اس وقت یوں بلوایا ہے کہ چاروں طرف سے خط آرہے ہیں کہ اپنی جماعت اور سلسلہ کا نام بھی ہونا چاہیئے ہم نے سب سے مشورہ طلب کیا ہے کہ کیا نام رکھنا چاہئے۔اس وقت حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اور حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب فاضل امروھی اور حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی اور مولوی قطب الدین صاحب اور مرزا خدا بخش صاحب مصنف عسل مصفی موجود تھے اب تم اور یہ سب حاضرین سوچ کر ایک دن۔دو دن تین دن میں جواب دیں۔میں نے عرض کیا (صلی اللہ علیک و علی محمد) * اوروں کا تو اختیار ہے کہ جب چاہیں مشورہ دیں میں تو اپنی طرف سے جو میری سمجھ میں آیا ہے ابھی عرض کر دیتا ہوں۔فرمایا کہ تم بیان کرو۔میں نے عرض کیا کہ شاید حضور کو یاد ہو کہ ایک بار لودھیانہ میں میں نے مولوی عبدالکریم صاحب جو اس وقت موجود ہیں۔اور منشی غلام قادر فصیح سیالکوٹی اور مرزا خدا بخش صاحب اور قاضی خواجہ علی صاحب اور پیر افتخار احمد ایہ الہام ہے جو عین نماز میں مغرب کی حضرت اقدس علیہ السلام کو مسجد مبارک میں التحیات پڑھتے ہوئے ہوا تھا اور خاکسار پاس تھا آپ نے سب کو سنادیا تھا)