تذکرۃ المہدی — Page 145
تذكرة المهدي 145 مصفی لاہور سے آگئے اور سب جگہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور حضرت اقدس علیہ السلام کے مباحثہ کی خبر مشہور ہو چکی تھی۔نواب محمد علی خان صاحب کے مالیر کو ٹلہ سے آنے کی خبر گرم تھی لیکن کسی وجہ سے نہ آسکے۔احمدی نام رکھنا ایک روز ہم سب میں مشہور ہوا کہ پہلے تو ہم فرقہ محمدی کہلاتے تھے اور اب ہم کو مرزائی کہتے ہیں ہمارا بھی کوئی نام ہونا چاہئے اور بہتر تو یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی کے نام نامی کے ساتھ محمدی تھے اور اب احمد علیہ الصلوۃ والسلام کے نام مبارک کے ساتھ کہ آپ بروز و ظهور محمد مصطفی ا ہیں۔احمدی نام ہونا چاہئے یہی گفتگو تھی کہ حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت اندر زنانہ مکان میں تھے مردانہ میں تشریف لے آئے اور عصر کی نماز کی تیاری ہوئی اور بعد نماز میں نے بموجب مشورہ مسلمان حضرت کی خدمت میں عرض کیا فرمایا ہاں تمیزی نام ہونا چاہئے ہم اپنا نام " رکھیں یا خالص مسلمان رکھیں لیکن اس سے لوگ چڑیں گے پھر فرمایا ابھی ٹھہر جاؤ جو اللہ تعالیٰ چاہے گاوہ نام مقرر کر دے گا ہمارے تو سب کار و بار اللہ تعالیٰ پر ہیں صبر کرو اس زمانہ میں ابتدائی حالت میں ہم کو یہ بصیرت کہاں تھی کہ جواب ہے یہ بات سچ ہے کہ بتدریج سب کام ہوتے ہیں اس وقت ہم تو یہی سمجھتے تھے کہ جیسے اوروں نے اپنے فرقہ کے نام تجویز کرلئے ہیں کسی نے محمدی کسی نے اہلحدیث کسی نے موحد کسی نے مقلد کسی نے حنفی شافعی مالکی خیلی کسی نے چشتی قادری اور نقشبندی سهروردی کسی نے کچھ کسی نے کچھ اسی طرح ہم بھی اپنا نام اپنی مرضی سے تجویز کرلیں یہ سمجھ نہ تھی کہ الہی سلسلہ ہے اللہ تعالٰی نے اس کو قائم کیا ہے اللہ تعالٰی ہی اس کا متولی ہے اللہ تعالی ہی کی مرضی پر اس کا نام ہے آنحضرت ﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم نے بھی بتدریج ترقی اور معرفت حاصل کی تھی ایک مدت کے بعد جب ہم اور ہمارا موعود امام علیہ السلام قادیان میں تھے اور مردم شماری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس سلسلہ کا نام