تذکرۃ المہدی — Page 144
تذكرة المهدى 144 ذکر ہے اور دوبارہ آنے کا کہیں ذکر نہیں اور وفات کے علاوہ حیات کی کوئی آیت نہیں اور حدیثوں میں بھی حیات کا کوئی لفظ نہیں تو ہم قرآن اور حدیثوں کو کیسے چھوڑ دیں۔اور یہ حدیثیں نزول مسیح کی بمقابلہ آیات اللہ اور حدیث رسول تاویل طلب ہیں اب صریح اور قطعی آیات اور احادیث کے مطابق قرآن کو موول کر کے مقابلہ میں کیونکر ترک کردیں۔غزنوی بولے کہ قرآن کے مطلب کو حدیث ہی بیان کرتی ہے پس حدیث کے مقابلہ میں آیات قرآن کی تاویل کرنی چاہئے حدیث مصرح و مفصل ہے اور قرآن مجمل اور مختصر ہے ان کی اس بات پر ہم اور حضرت اقدس علیہ السلام ہنس پڑے۔اور فرمایا کہ قرآن شریف میں تو تاویل کو جائز سمجھتے ہو جو یقینی اور قطعی ہے اور حدیث میں بمقابلہ قرآن شریف تادیل جائز نہیں سمجھتے جو ظنی ہے اور کئی مونہوں سے نکل کر ہم تک پہنچتی ہیں اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا جب وہ چلے گئے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کے جانے پر اور قرآن شریف کی گستاخی اور بے ادبی پر بہت ہی افسوس کیا اور فرمایا کہ دیکھو ان لوگوں کو کیا ہو گیا قرآن شریف میں تاویل کرنا ان کے نزدیک کوئی بات ہی نہیں لیکن حدیثیں جو احاد اور غایت مافی الباب ظن کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کو قرآن مجید پر مقدم کرتے ہیں۔جو الہی کلام قطع اور یقین تک پہنچا ہوا ہے جس کی شان لاریب فیہ ہے ان لوگوں میں بالکل یہودیت آگئی ہے اللہ تعالی کے کلام پاک کی دلوں میں کوئی کسی پہلو سے وقعت نہیں رہی اور نہ یہ حدیثوں کو ہی سمجھ سکتے ہیں ان کے سینوں سے کلام الہی اٹھ گیا ان کی سمجھ بوجھ نہم و فراست عقل سب جاتی رہی۔اس عرصہ میں بہت سے احمدی احباب آتے جاتے رہتے تھے ایک بار مولوی عبد الکریم صاحب اور مٹی غلام قادر سیالکوٹ سے اور نشی ظفر احمد صاحب وغیرہ کپورتھلہ سے اور مرزا خدا بخش صاحب مصنف کتاب عسل