تذکرۃ المہدی — Page 142
تذكرة المهدي 142 حصہ اول لاتے تب مولوی صاحب کو چین ہوتا اور دل کو تسلی ہوتی۔مولوی صاحب کہیں ملازم تھے وہاں سے خط آیا کہ جلد آؤ ورنہ نام کٹ جائے گا اور ملازمت جاتی رہے گی مولوی صاحب نے ملازمت کی کچھ بھی پرواہ نہ کی اور کہا کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی بیعت میں شرط لی ہے مجھے نوکری کی کوئی پرواہ نہیں ہے حضرت اقدس علیہ السلام کی صحبت کو غنیمت سمجھا ایک روز یہ ذکر آگیا حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ خود ملازمت کو چھوڑنا نہیں چاہئے اس میں اللہ تعالی کی ناشکری ہے ہاں خود بخود ہی اللہ تعالی اپنی کسی خاص مصلحت سے علیحدہ کر دے تو بات دوسری ہے ضرور ملازمت پر چلے جانا چاہئے پھر رخصت لے کر آجانا کوئی اور راہ اللہ تعالٰی نکال دے گا حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ ارشاد سن کر مولوی صاحب پاکراہ و جبر چلنے کے لئے تیار ہو گئے اور دوبارہ بیعت کی تجدید کی کیونکہ ایک دو روز پیشتر ایک شخص نے سوال کیا تھا۔کہ حضور ایک بار تو ہم نے بیعت کرلی کیا دوبارہ سہ بارہ بھی بیعت کر سکتے ہیں فرمایا ہاں سنت ہے۔جب وہ رخصت ہو کر چلنے لگے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا دل جانے کو نہیں چاہتا دیکھو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے یہ معنی ہیں۔پس مولوی صاحب چلائے اور کچھ دیر کے بعد دیکھیں تو مولوی صاحب مسکراتے ہوئے خوش خوش بغل میں گٹھڑی دبائے ہوئے چلے آتے ہیں ہم سب حیران ہوئے اور حضرت اقدس بھی دیکھ کر ہننے لگے مولوی صاحب نے کہا میرے جاتے جاتے ریل چلدی بعض لوگوں نے کہا بھی کہ اسٹیشن پر ٹی دوسرے وقت چلے جانا میں نے کہا جتنی دیر اسٹیشن پر لگے اتنی دیر حضرت کی صحبت میں رہوں تو بہتر ہے اسٹیشن پر ٹھرنے سے کیا فائدہ اور جب اللہ تعالٰی نے ہی جانا پسند نہ فرمایا تو میں کیسے خلاف مرضی خدا پسند کروں حضرت اقدس کی صحبت کہاں میتر