تذکرۃ المہدی — Page 141
تذكرة المحمدي 141 اول روپے انعام دیتے جاویں گے اور روپے پہلے بنک میں جمع کر دیئے جائیں گے اس اشتہار کو بھی سن کر خاموش ہو رہے اور کوئی نہ اٹھا خدا جانے مولویوں کو زمین نگل گئی یا سانپ سونگھ گیا صدائے برنخاست مولوی غلام نبی صاحب تو بس حضرت اقدس علیہ السلام کے ہو رہے اور ان کا ایسا ہر وہ اور بحر کھلا کہ جو کوئی مولوی یا اور شخص آتا اس سے بات کرنے اور مباحثہ کے لئے آمادہ ہو جاتے اور حضرت اقدس کا چہرہ ہی دیکھتے رہتے اور خوشی کے مارے پھولے نہ سماتے اور حضور کا کلام سنے کے سوا اور کوئی کام نہ تھا۔ایک روز زمین و آسمان کی گردش کے متعلق ذکر آیا حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ زمین کی گردش بھی قرآن شریف سے ثابت ہے اور پھر یہ آیت پڑھی إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا یہ آیت سن کر مولوی صاحب وجد میں آگئے اور کہنے لگے کہ یہ ہے قرآن کی سمجھ ہم نے قرآن مجید پڑھا لیکن اس طرف نظر نہ گئی اور نہ اس پر غور کیا قرآن شریف سمجھنے کا حق حضرت اقدس علیہ السلام کا ہی ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے وہی قرآنی نکات اور اسرار و معارف سے واقف ہوتا ہے کیا خوب فرمایا حضرت اقدس علیہ السلام نے۔خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد او نحس و سردار آورد الله تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةً إِلا الْمُطَهَّرُونَ اب تو مولوی صاحب کو حضرت اقدس سے عشقیہ حالت میں ترقی ہونے لگی جب حضرت اقدس علیہ السلام زنانہ مکان میں تشریف لیجاتے تو مولوی صاحب بے قرار دیوانہ وار ہو جاتے تھے اور کبھی ملتے اور کبھی بیٹھے بیٹھے رویا کرتے تھے اور کسی پہلو چین نہ پڑتا اور بار رکھتے کہ اتنے روز جو میری طرف سے مخالفت ہوئی یا میری زبان سے الفاظ گستاخانہ نکلے قیامت کے روز اللہ تعالٰی کو کیا جواب دوں گا پھر استغفار کرتے اور سخت بے قراری اور ندامت سے روتے جب حضرت اقدس علیہ السلام تشریف بار -