تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 140 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 140

تذكرة المهدى 140 حصہ اول کیوں نہیں مقابلہ کرتے تو مولویوں نے کھسیانے ہو کر کہا کہ مرزا کا مقابل ہونا اس کو عزت دیتا ہے کہنے کو تو یہ بات کہدی لیکن شرم کے مارے کچھ بن نہ سکتا تھا آسمان دور اور زمین سخت کریں تو کیا کریں۔اس کے بعد مولویوں کی طرف سے مولوی غلام نبی صاحب کے پاس مباحثہ کے پیغام آنے لگے۔اور بعض کی طرف سے پھسلانے کے لئے کہ ہماری ایک دو بات سن جاؤ اس کے جواب میں مولوی صاحب نے یہ شعر پڑھا۔حضرت ناصح جو آئیں دیدہ و دل فرش راہ کوئی مجھ کو یہ تو سمجھائے کہ سمجھائیں گے کیا بعد از پیام سلام و مباحثہ مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کرنا منظور کر لیا لیکن باتیں ہی باتیں تھیں مباحثہ کے لئے کوئی نہ آیا مولوی غلام نبی صاحب نے بھی اشتہار مباحثہ کے لئے شائع کیا کہ میں مباحثہ کے لئے تیار ہوں جس کو علم کا دعوئی ہو وہ مجھے سے مباحثہ کرلے۔ای عرصہ میں امر تسر سے یا لاہور سے خط آیا وہ خط مولوی صاحب کے نام تھا لکھا تھا کہ خواہ تم یا مرزا یا اور کوئی ہو ایک آیت عیسی علیہ السلام کی وفات میں پیش کرے تو میں پچاس روپے انعام دوں گا بلکہ جتنی آیتیں ہونگی فی آیت پچاس روپیہ انعام دیئے جائیں گے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں مولوی غلام نبی صاحب نے یہ خط پیش کیا حضرت اقدس علیہ السلام نے اس خط کو پڑھ کر فرمایا کہ اس شخص کو لکھ دو کہ ہم تمہیں آیتیں قرآن شریف کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات میں دیں گے تم کو مناسب ہے کہ اپنے اقرار کے بموجب پچاس روپے فی آیت کے حساب سے پندرہ سو روپیہ لاہور کے بنک میں جمع کرا کر سرکاری رسید بھیج دو۔اب جھوٹے کی کہاں طاقت تھی جواب ندارد پھر مولوی غلام نبی صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا کہ جو شخص حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات میں قرآن شریف کی آیت صریح اور حدیث صحیح پیش کرے تو فی آیت اور فی حدیث دس