تذکرۃ المہدی — Page 10
تذكرة المهدى 10 اول رات کو کھایا جاتا تھا۔کس قدر درد زور شور سے ہوا آپ نے فرمایا ہاں بیشک ہوا تھا۔دست شفا ای رمضان شریف کا ذکر ہے کہ جب میرے دانتوں میں درد ہوا حضرت حکیم الامت مولانا نور الدین صاحب اور ڈاکٹر عبد اللہ صاحب نو مسلم نے بہت سی دوائیں لگائیں اور کھلا ئیں کچھ آرام نہ ہوا۔جب سخت درد ہوا اور میری حالت درد سے متغیر ہوئی تو میں صبح ہی اٹھ کر حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا میرے درد کو دیکھ کر آپ بیتاب سے ہو گئے اور صندوق کھول کر کونین کی شیشی نکالی اپنے ہاتھ میں پانی ڈال کر جلدی جلدی گولی بنائی اور فرمایا منہ کھولو میں نے کھولا تو حضرت نے اپنے ہاتھ سے کونین کی گولی میرے منہ میں ڈالدی۔فرمایا نگل جاؤ میں نگل گیا پھر پانی کا گلاس اپنے ہاتھ مبارک سے بھر کر لائے اور مجھے پلایا۔پھر فرمایا کونین ہر ایک بیماری کے دورہ کو روکنے والی ہے خدا شفاء دے۔پس دو منٹ کے بعد درد کو آرام ہو گیا پھر جو ایک دفعہ درد ہوا اور میں نے کو تین کھائی کچھ بھی فائدہ نہ ہوا تب میں نے جانا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے دست مبارک کی تاثیر تھی۔پس خوردہ کا اثر ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھے نزلہ اور زکام کی بہت شکایت تھی چار برس یا کچھ کم و بیش میں اس مرض میں بتلا رہا۔دودھ پینا خوشبو سونگھنا میرے لئے زہر تھا۔ایک روز بعد نماز عشاء مسجد مبارک کی چھت کی شہ نشین پر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام تشریف رکھتے تھے۔اور سب احباب جیسے چاند کے چار طرف ستارے کوئی شہ نشین پر اور کوئی نیچے اور دائیں اور بائیں بیٹھے تھے آپ نے دودھ پینے کے لئے طلب کیا۔اور ایک گھونٹ دودھ کا پی کر گلاس کو میرے ہاتھ دیدیا اور فرمایا پی لو میں نے عرض کیا کہ مجھ کو نزلہ اور زکام کی سخت شکایت ہے میں نہیں پی سکتا۔اگر کسی وقت پی لیتا ہوں تو مجھے زہر ہو جاتا ہے۔اور نزلہ بڑھ جاتا ہے فرمایا خیر پی بھی لوکا ہے کا زکام