تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 106 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 106

تذكرة المهدي 106 حصہ اول کے درپے ہوئے کفر کے فتوے لکھے گئے ان کی کتابوں کو جلایا گیا اپنے پرائے سب کی نظروں میں حقیر اور ذلیل ہوئے لیکن بحکم العاقبتہ متقین وہ حق کو حق جو ہی غالب اور مظفر و منصور ہوئے کیا آنحضرت ا یہ طریق صلح کل جس کو لفظوں میں منافقت کہتے ہیں نہیں جانتے تھے یا اور اولیاء اللہ یہ رنگ آمیزیاں نہیں جانتے تھے کہ بات حق منہ سے نکال کر اپنے پرائے یار دوست عزیز اقارب اہل شہر و محلہ کو دشمن بنا لیا اور اسی کلمتہ الحق سے خون کی ندی اور نہر چل نکلی۔اگر معاذ اللہ آنحضرت لالا ہے ایسا کرتے تو عرب کے لوگ جو مردانگی اور شجاعت اور ہمت میں یکتا تھے وہ سب آپ کے قدموں میں آپڑتے اور بازو آپ کے قدموں کے نیچے بچھا دیتے۔اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان 1 میں صرف کلمتہ الحق کا بین نشان ہے۔پھر میں نے اس جلسہ میں یہ کہا کہ منصور اور شمس تبریز" جن کو بچہ بچہ بھی جانتا ہے ولی اللہ تھے یا عدو اللہ تھے۔لوگ : بلاشک ولی اللہ تھے۔سراج : منصور کو دار پر کھینچا اور شمس تبریز کی کھال اتاری گئی۔یا نہیں ؟ لوگ : ہاں ایسا ہی ہوا۔سراج : یہ لوگ دار کھینچنے اور کھال اتارنے والے کون تھے۔لوگ : مولوی عالم تھے۔راج : ان مولویوں نے اچھا کیا یا برا۔لوگ : برا کیا۔سراج : تو برے مولوی ہوئے یا ولی اللہ۔لوگ : ولی اللہ بھی کہیں برے ہوئے یہی بد نصیب مولوی برے ہوئے جنہوں نے خدا کے ولیوں سے عداوت کر کے برائی کی۔سراج الحق : على هذا القياس - کفر کا فتوی دینے والے اس وقت کس کے قائم