تذکرۃ المہدی — Page 56
تذكرة المهدى 56 قابل ہے اور وہ یہ ہے کہ جب رسالہ فتح اسلام اور اس کا دوسرا حصہ توضیح مرام اور تیرا حصہ ازالہ اوہام یعنی یہ تینوں حصے چھپیکر شائع ہو گئے تو حضرت اقدس علیہ السلام دہلی تشریف لائے اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب حضرت اقدس علیہ السلام نے رسالہ فتح اسلام سے پہلے اور بیانہ میں ایک اشتہار دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے اور ان کی روح دو سرے آسمان پر معہ حضرت یحییٰ علیہ السلام ان کے خالہ زاد بھائی کے ساتھ موجود ہے اور جس صحیح کا اس امت میں آنے کا وعدہ تھا وہ میں ہوں اس اشتہار کا نکلنا تھا اول لودھیا نہ شہر میں اور پھر تمام پنجاب اور ہندوستان میں ایک طوفان بے تمیزی برپا ہو گیا۔اور غل اور شور مخالفت و معاندت کا اٹھ کھڑا ہوا اور جس روز یه اشتهار چھپا اسی روز ایک اشتهار حضرت اقدس علیہ السلام نے میرے پاس مقام کوٹ پو تلی علاقہ جے پور بھیج دیا۔کیونکہ میں اس زمانہ میں وہیں تھا اور مجھے یہاں چھ سات مہینے تک قیام کرنا پڑا تھا اس لئے کہ اس شہر کا ہر ایک شخص عورت و مرد سب میرا مرید تھا اور ان دنوں مولود شریف اور وعظ کا اسقدر چرچا تھا کہ ایک ایک دن چار چار پانچ پانچ جگہ مولود شریف کی مجلس ہوتی تھی اور اس عرصہ اس عرصہ تک یہ بھی ذکر ہوتا رہا کہ امام مہدی پیدا ہونگے۔اور جیسا کہ مشہور ہے کہ سیح و مہدی کی نسبت عوام کا عقیدہ ان کا نام محمد ہو گا اور ان کی ماں کا نام آمنہ اور باپ کا نام عبد اللہ ہو گا۔اور وہ نصاری سے لڑیں گے اور جنگ و جہاد ہوگا اور ان کے وقت میں رمضان کے مہینے میں چاند گرہن اور سورج گرہن ہو گا اور تمام روئے زمین پر نصاری کا راج ہو گا۔قرآن شریف اٹھ جائے گا خیر و برکت محبت والفت جاتی رہے گی اولاد ماں باپ کی نافرمان ہو گی ماں باپ اولاد کی پرورش میں کو تاہی کریں گے جو رویں خاوندوں کی نافرمان اور خاوند عورتوں سے متنفر ہوں گے علم کم ہو جائے گا جہالت بڑھ جائے گی ہمدردی کا