تذکرۃ المہدی — Page 51
تذكرة المهدى 51 حصہ اول جہنمی ہو چکا تھا۔اب عنقریب میں انشاء اللہ تعالٰی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں۔منجملہ ان کے ایک جناب مولانا مولوی محمد بیٹی صاحب ہیں جب میں کتابیں روانہ کرتا تھا تو حضرت مولانا مولومی نور الدین اسم با سمی ( آپ کا نام نامی اور اسم گرامی میں کبھی لکھتا ہوں تو القاب کے لئے مجھ کو فکر ہوتا ہے آخر یہی دن شہادت دیتا ہے کہ آپ کے اس مقدس نام کے ساتھ کسی القاب وغیرہ کی ضرورت نہیں۔کیونکہ آپ کا اسم ہی وہ مبارک ہے کہ کسی القاب کا محتاج نہیں بلکہ خود القاب کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کے نام کے ساتھ ہو ایک دفعہ کسی بے ادب نے آپ کے نام کفر کا فتویٰ بھیجا۔حضرت نور الدین صاحب نے فرمایا جو نور الدین ہو وہاں کفر چسپاں نہیں ہو سکتا) نے مجھ کو فرمایا کہ ایک کتاب مولوی محمد یٹی صاحب کے نام روانہ کروں۔میں نے مولوی صاحب کے نام کا پلندہ باندھا تو اس پر میں نے ان کے نام کی بجائے یا یحْيى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوةٍ لكھديا حضرت اقدس علیہ السلام نے اس پلندہ کو دیکھ کر فرمایا کہ تم ان کو جانتے ہو میں نے عرض کیا کہ حضور میں تو نہیں جانتا لیکن حضرت مولانا نور الدین صاحب نے فرمایا تھا کہ ایک کتاب ان مولوی صاحب کے نام بھی بھیج دو۔فرمایا بہت اچھا پھر فرمایا کہ یہ آیت کس نے لکھی۔میں نے عرض کیا کہ میں نے لکھی ہے اس پر فرمایا کہ خوب ہی کیا۔اگر ہم اپنے ہاتھ سے یہ پلندہ لکھتے تو یہی آیت ضرور لکھتے و نکہ ہمارے قلب اور تمہارے قلب کا توارد ہو گیا۔تمہارا لکھا ہمارا لکھا ہو گیا۔اور ایسا ہوتا ہے کہ پیرو مرشد کا فیض مرید پر اور استاد کا شاگرد پر ایسا اثر پڑ جاتا ہے اب تم ہمارے منشاء کو خوب سمجھنے لگے ہو کتاب روانہ کردد اور کتاب کی روانگی کے وقت دعا کی جب مولوی محمد یحیٰی صاحب کے پاس یہ کتاب پہنچی تو اس پلندہ کو دیکھتے ہی باغ باغ ہو گئے اور بشرح صدر اس کتاب کو ایسا لیا اور ایسا پکڑا کہ جو حق پکڑنے کا ہوتا ہے۔الحاصل جب کبھی حضرت اقدس علیہ السلام کو تکلیف ہوتی تھی تو میں سمجھ