تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 155 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 155

تذكرة المهدى 155 السلام نے فرمایا تھا اس کا اردو ترجمہ یہ ہوا کہ باتوں میں سے باتیں نکل آتی ہیں پھر آپ نے ہنس کر فرمایا کہ وفات میں کھینچ کر لے آنا تو سل ہے پھر فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جب مباحثہ نمرود بادشاہ سے ہوا تو آپ نے دلیل پیش کی کہ خدا دہ ہے جو مارتا اور زندہ کرتا ہے اس نے کہا کہ میں بھی مارتا ہوں اور زندہ کرتا ہوں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ عقل میں کمزور اور سمجھ میں ناقص ہے تو جھٹ پٹ اس دلیل سے پھر کر فرمایا کہ میرا رب وہ ہے کہ جو آفتاب کو مشرق سے لاتا ہے تو اگر سچا ہے تو مغرب سے لے آ۔اس پر وہ مبہوت ہو گیا مولوی محمد حسین صاحب سے بحث تو ہونے دو دیکھا جائے گا۔مولوی نظام الدین کا بحث کو دوسرے روز صبح کو آٹھ نو بجے مولوی نظام الدین اور مولوی آنا اور بیعت کرکے جانا محمد حسین اور دو تین اور شخص تھے مولوی محمد حسن کے مکان پر آپس میں گفتگو ہوئی۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ حضرت مسیح کی زندگی پر بھی قرآن شریف میں کوئی آیت ہے۔مرزا تو آیت پر اڑ رہا ہے تو مولوی محمد حسین نے کہا میں آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔مولوی نظام الدین مرحوم و مغفور نے کہا تو میں اب مرزا صاحب کے پاس جاؤں اور گفتگو کروں انہوں نے کہا کہ ہاں جاؤ پس مولوی نظام الدین مرحوم جلدی جلدی حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت مولوی عبد الکریم اور نشی غلام قادر صاحب فصیح اور فضل شاہ صاحب اور شہزادہ عبد المجید صاحب اور مولوی تاج محمد صاحب اور مولوی عبد القادر صاحب جمال پوری اور قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم و مغفور اور عباس علی مرتد اور نور محمد ہانسوی مرحوم اور اللہ بندہ ہانسوی اور منشی ظفر احمد صاحب اور دیگر اور صاحب اور خاکسار حاضر تھے آتے ہی کہا کہ مرزا جی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے حضرت اقدس نے فرمایا کہ قرآن شریف ہے مولوی نظام الدین مرحوم نے کہا کہ